.

حجاج کرام کی سفیر سہولت کے لیے "مشاعر ٹرین" سروس کا آغاز

ٹرین سروس سے مکہ اور مقامات مقدسہ باہم مربوط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حجاج کرام کی نقل وحرکت اور مقدس مقامات تک لے جانے کے لیے پہلی بار "مشاعر ٹرین" سروس کا کل ہفتے سے باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے۔ یہ ریلوے لائن مکہ معظمہ کومقدس مقامات مزدلفہ، منیٰ اور عرفات کے نو اسٹیشنوں سے باہم مربوط کر رہی ہے اور اس سروس سے حجاج کی بروقت مقدس مقامات تک رسائی اور مناسک کی ادائی میں مدد ملے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق "مشاعر ٹرین" سروس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ میٹرو بس کی طرح سواریوں کو مختلف اسٹیشنوں سے اتارنے اور نئی سواریاں بٹھانے کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ مشاعر ٹرین سروس کے شیڈول کے مطابق مکہ مکرمہ سے مقدس مقامات کی جانب پہلی روانگی جسے "موومنٹ A" کا نام دیا گیا ہے باقاعدہ طور پر ہوچکی ہے۔

پہلے سفر میں ٹرین عرفات کے اسٹیشن نمبر ایک، دو اور تین سے ہوتی ہوئی مزدلفہ پہنچے گی۔ پھر مزدلفہ کے تینوں اسٹیشنوں سے حجاج کو بٹھاتے ہوئے منیٰ کے اسٹیشن نمبر ایک ، دو اور تین پر اتارے گی۔ بعد ازاں منیٰ کے تینوں اسٹیشنوں سے حجاج کو واپس لاتے ہوئے انہیں میدان عرفات تک پہنچائے گی۔

مکہ مکرمہ میں حج ٹرین سروس کے ڈائریکٹر جنرل انجینیئر فہد بن محمد ابو طربوش نے بتایا کہ مشاعر ٹرین کی "موومنٹ A" آٹھ ذی الحج کو شام ساڑھے سات بجے تک جاری رہے گی۔ پہلے سفرمیں حجاج کی خدمت پر مامور مختلف اداروں کے اہلکاروں کوان کی ڈیوٹی کے مقامات تک پہنچایا جائے گا۔ اس سلسلے میں انہیں پچاس ریال کی مالیت کا ایک ٹکٹ جاری کیا جائے گا۔

انجینیئر طربوش کے مطابق مشاعر ٹرین سروس کی "موومنٹ B" آٹھ ذی الحج کو شام آٹھ بجے سے نو ذالحجہ کی سہ پہر ساڑھے تین بجے تک جاری رہے گی۔ اس دوران منٰی اور دیگر مقامات سے حجاج کرام کو یوم عرفہ کے لیے میدان عرفات اورپھر مزدلفہ کے اسٹیشن نمبر تین کی طرف منتقل کیا جائے گا۔

تیسری موومنٹ یوم عرفہ کو غروب آفتاب کے بعد رات ساڑھے گیارہ بجے تک جاری رہے گی اور حجاج کرام کو عرفات سے مزدلہ منتقل کیا جائے گا۔ مشاعر ریلوے لائن کی چوتھی "موومنٹ" اسی رات 12:30 بجے مزدلفہ سے منیٰ کی جانب ہو گی اور حجاج کی منتقلی کا عمل عید کی صبح ساڑھے دس بجے تک جاری رہے گا۔

نماز عید کے بعد ٹرین کی پانچویں موومنٹ شروع ہوگی۔ موومنٹ E عید کے روز صبح دس بجے سے13 ذی الحج کی شام پانچ بجے تک جاری رہے گی اور مختلف مقامات سے حجاج کرام کو ان کی قیام گاہوں تک پہنچایا جاتا رہے گا۔