.

کویتی عورت کے خلاف ملازمہ کے قتل پر سزائے موت کا فیصلہ برقرار

قتل کے جرم میں بیوی کی معاونت پر معذور خاوند کو 10 سال قید کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی سپریم کورٹ نے اپنی فلپائنی ملازمہ کو بہیمانہ تشدد سے ہلاک کرنے والی خاتون کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔عدالت نے اس کویتی عورت کے معذور خاوند کو دس سال قید کی سزا کے حکم کی بھی توثیق کر دی ہے۔

عدالت عظمی ٰ کا یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کو کہیں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ امیر کویت سزائے موت کو عمرقید میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کویت میں سزائے موت کے مجرموں کو پھانسی دے کر موت سے ہم کنار کیا جاتا ہے۔

استغاثہ کے مطابق اس کویتی عورت کو قتل عمد کی مجرمہ قرار دیا گیا تھا۔ وہ اپنی فلپائنی ملازمہ کو آئے دن تشدد کا نشانہ بناتی رہتی تھی اور پھر اس نے انتہائی سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو ویران صحرائی علاقے میں لے جاکر کار کے نیچے کچل دیا تھا۔

عدالتی حکم کے مطابق اس کویتی عورت کا معذور خاوند اس کا شریک جرم رہا تھا اور اس نے غیر ملکی عورت کے قتل میں اس کی معاونت کی تھی۔ ان دونوں میاں بیوی کو کویت کی ایک ماتحت عدالت نے گذشتہ سال فروری میں سزائے موت سنائی تھی لیکن تین ماہ کے بعد اپیل عدالت نے بیوی کی پھانسی کی سزا تو برقرار رکھی تھی لیکن اس کے خاوند کی سزا کم کرکے دس سال قید میں تبدیل کر دی تھی۔

عدالتی حکم کے مطابق عورت اپنی ملازمہ کو کئی روز تک تشدد کا نشانہ بناتی رہی تھی، جب اس کی صحت بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہوگئی تو دونوں میاں بیوی اس کو ویران صحرائی علاقے میں لے گئے اور وہاں لے جا کر انھوں نے اسے بے ہوشی کی حالت ہی میں کار کی پچھلی نشست سے باہر نکالا اور اس پر کار چڑھا دی۔ انھوں نے اس پردیسی عورت کی جان نکلنے تک درندگی کا یہ مظاہرہ جاری رکھا تھا۔

واضح رہے کہ کویت میں اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ فلپائنی باشندے کام کررہے ہیں۔ان میں زیادہ تر خواتین ہیں جو معمولی تنخواہوں پر گھریلو ملازماؤں کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان کے علاوہ کویت میں چھے لاکھ سے زیادہ تارکین وطن گھریلو ملازمین یا معاونین کے طور پر کام کر رہے ہیں اور ان میں اکثریت ایشیائی باشندوں کی ہے۔ کویت اور دوسری خلیجی ریاستوں میں غیر ملکی تارکین وطن کے ساتھ ناروا سلوک کے واقعات آئے دن منظرعام پر آتے رہتے ہیں۔