امریکا ۔ ایران مشترکہ چیمبر آف کامرس کا قیام ایک ماہ میں متوقع

تجارتی تعلقات 1979ء سے قبل والی پوزیشن پر لانے کی مساعی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق جنیوا میں طے پانے والی 'ڈیل' کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تجارتی روابط بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ایرانی ایوان صنعت وتجارت کے ایک سینیئرعہدیدار نے بتایا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور تجارتی روابط بڑھانے کے لیے"ایران ۔ امریکا مشترکہ ایوان ہائے صنعت وتجارت ایک ماہ کے اندر قائم کرلیا جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تجارتی روابط بڑھانے کی یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں جنیوا میں طے پائے جوہری معاہدے میں تسلیم کیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور تہران کو محدود پیمانے پر یورینیم افزودگی کی اجازت ہے۔ چھ ماہ کے لیے طے پائے اس عارضی معاہدے کے دوران مغرب اور امریکا، ایران پرعائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کریں گے اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کر دیے جائیں گے۔

ایرانی حکومت کے عہدیدارابو الفضل حجازی کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے تجارتی پابندیاں اٹھانے کے ضمن میں دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ ایوان صنعت وتجارت کا شعبہ قائم کرنا بھی شامل ہے۔ توقع ہے کہ دسمبر میں یہ کام مکمل کرلیا جائے گا۔ ایرانی اخبار"ڈیلی تہران" سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر حجازی کا کہنا تھا کہ تہران، واشنگٹن سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے انقلاب سے ما قبل والی پوزیشن پر تجارتی تعلقات واپس لے جانا چاہتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست تجارتی روابط بحال ہونے کے ساتھ ساتھ دو طرفہ پروازوں کا سلسلہ شروع ہونے کا بھی امکان بڑھ گیا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے دو ماہ قبل امریکی دورے کے دوران امریکا میں مقیم اپنے شہریوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ تہران، واشنگٹن کے ساتھ براہ راست پروازوں کا سلسلہ جلد شروع کر دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں