.

ترکی اور یورپی یونین میں غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کا معاہدہ

28 یورپی ممالک میں ترک شہریوں کو 2017ء میں ویزا فری داخلے کی اجازت ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ اپنی علاقائی حدود سے تنظیم کے رکن ممالک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کی واپسی سے متعلق معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس کے بدلے میں ترک شہریوں کو 2017ء میں یورپی ممالک میں بغیر ویزا سفر کی اجازت دے دی جائے گی اور اس کے لیے جلد مذاکرات کیے جائیں گے۔

سوموار کو ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو اور اٹھائیس رکن ممالک پر مشتمل بلاک کی داخلہ امور کی کمشنر سیسلیہ مالم اسٹروم نے انقرہ میں ایک تقریب میں غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت سے متعلق مذاکرات گذشتہ چالیس ماہ سے منجمد تھے اور اس معاہدے کو دونوں کے درمیان تعلقات میں اہم سنگ میل قراردیا گیا ہے۔ ترکی کی تنظیم میں شمولیت سے متعلق مذاکرات چھے ہفتے قبل ہی بحال ہوئے تھے۔

یورپی یونین نے اس معاہدے کے بدلے میں ترکی شہریوں کو 2017ء میں ویزا فری سفر کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''یورپ کا گیٹ وے اب ویزے کے بغیر کھل جائےگا''۔انھوں نے کہا کہ ترکی اس ضمن میں اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے گا۔

اس موقع پر انھوں نے بتایا کہ ''وہ آیندہ ماہ برسلز جائیں گے جبکہ فرانسیسی صدر فرانسو اولاند 27 اور 28 جنوری کو ترکی آئیں گے۔ان دوروں سے یورپی یونین کے ساتھ ہمارے تعلقات کو تقویت ملے گی''۔

یورپ اور ایشیا کا سنگم

ترکی ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔اس کے علاقے سے ہر سال ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن سرحد عبور کرکے یونان میں داخل ہوتے ہیں۔یورپی یونین یہ چاہتی ہے کہ ترکی ان ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑے جانے کی صورت میں واپس لے۔

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی سے متعلق مذکورہ معاہدے پر بات چیت 2012ء سے تعطل کا شکار چلی آرہی تھی اور ترکی نے تنظیم کے ساتھ یہ کہہ کر اس معاہدے پر مزید بات چیت سے انکار کردیا تھا کہ تنظیم کے رکن ممالک کے شہریوں کی طرح ترکوں کو بھی ویزے کے بغیر داخلے کی اجازت دی جائے۔

تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ترکی نے اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا تو پھر اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا لیکن ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ ''ہم بوجھ کو نہیں اٹھائیں گے بلکہ اس بوجھ کو شیئر کریں گے''۔

یادرہے کہ ترکی نے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے 2005ء میں کوششوں کا آغاز کیا تھا لیکن اس دوران مختلف رکاوٹیں حائل ہوتی رہی ہیں اور اس مغربی تنظیم کی جانب سے مسلم اکثریتی ملک پر وقتاً فوقتاً کڑی شرائط بھی عاید کی جاتی رہی ہیں۔

فرانس اور جرمنی ماضی میں ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور ان دونوں ممالک کا یہ موقف رہا ہے کہ ترکی یورپ کا حصہ نہیں ہے۔تنظیم کے ایک رکن ملک قبرص کے ساتھ ترکی کے تنازعے کی وجہ سے بھی اس کو رکنیت دینے سے انکار کیا جاتا رہا ہے۔اب ایک مرتبہ پھر دونوں طرف برف پگھلی ہے اور ترکی تنظیم میں شمولیت کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔