جنوبی سوڈان میں جاری تصادم کے دوران پانچ سو سے زیادہ ہلاکتیں

ہزاروں افراد کی دارلحکومت جوبا کے نواح میں قائم یو این کمپاونڈز میں منتقلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوبی سوڈان کے دارالحکومت میں جاری مسلح تصادم کے نتيجے ميں تقریباﹰ پانچ سو افراد کے ہلاک جبکہ آٹھ سو زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہيں۔ دو روز پہلےحکومت کا تختہ الٹنے کی ایک کوشش ناکام بنا دی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے ايک اہلکار نے پندرہ رکنی سلامتی کونسل کو اس بارے ميں دی جانے والی بريفنگ کے دوران بتايا کے جنوبی سوڈان کے دارالحکومت جوبا کے ہسپتالوں ميں گزشتہ دو ايام کے دوران چار سو سے پانچ سو کے درميان لاشيں لائی جا چکی ہيں۔ اس عالمی تنظيم کے مختلف ممالک ميں امن قائم کرنے سے متعلق مشنز کے سربراہ ہروے لاڈسوئس نے مزيد بتايا کہ تصادم کے دوران آٹھ سو کے لگ بھگ افراد زخمی بھی ہوئے ہيں۔ انہوں نے بتايا کہ ہلاک شدگان اور زخميوں کے بارے ميں يہ معلومات انہيں جوبا کے ہسپتالوں سے موصول ہوئی ہيں۔

سوڈان ميں صدر سلوا کِير اور ان کے مخالف رک ماچر کے حامی فوجی دھڑوں کے درميان ہونے والے اس مسلح تصادم کے سبب تقريباﹰ پندرہ ہزار افراد جوبا کے نواح ميں قائم اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈز کا رخ بھی کر چکے ہيں۔ فرانسيسی سفير جيرارڈ اراؤڈ کے بقول يہ تعداد بيس ہزار کے قريب ہے۔

سلامتی کونسل کو ہروے لاڈسوئس نے بتايا کہ دارالحکومت میں صورت حال اب بھی انتہائی کشيدہ ہے اور وہاں مختلف نسلی گروہوں کے درميان فسادات جاری ہيں۔ نيوز ايجنسی اے ايف پی کے مطابق صدر سلوا کيير ڈنکا نسل سے تعلق رکھتے ہيں جبکہ ان کے مخالف رک ماچر کا تعلق نويئر نسل سے ہے۔ رپورٹوں کے مطابق جنوبی سوڈان ميں جاری يہ تازہ تصادم در اصل نسلی بنيادوں پر ہو رہا ہے۔

بر اعظم افريقہ کے اس تازہ تنازعے کا آغاز اتوار کے روز اس وقت ہوا جب سابق نائب صدر رک ماچر کے حامی فوجی دستوں نے مبينہ طور پر حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی اور راتوں رات کئی سرکاری دفاتر پر قبضے کی غرض سے حملے کيے۔ صدر سلوا کير کے وفادار دستوں نے کارروائی کرتے ہوئے ان کوششوں کو ناکام بنا ديا اور اس وقت سے وہاں دونوں گروپوں کے مابين تصادم جاری ہے۔ جوبا حکومت کا کہنا ہے کہ دس سابق وزراء کو حراست ميں لے ليا گيا ہے جبکہ مرکزی کردار رک ماچر تاحال فرار ہيں۔

اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل بان کی مون نے گزشتہ روز جنوبی سوڈان کے رہنما سلوا کير سے بذريعہ ٹيلی فون رابطہ کيا، جس ميں انہوں نے کيير پر زور ديا کہ وہ اپوزيشن کے ساتھ اس تازہ تنازعے کے حل کے ليے مذاکرات کی راہ اختيار کريں۔ اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس صورت حال پر خطے کے ديگر ممالک کے سربراہان سے بھی بات چيت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں