.

سیاسی بحران کے حل میں ناکامی پر تیونسی عوام کا سڑکوں پر مارچ

عبوری حکومت کی تشکیل ایک مشکل مرحلہ ہو گا:مبصرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں کئی ماہ سے اپوزیشن اور حکمران جماعت تحریک النہضہ کے درمیان جاری رسہ کشی اور سیاسی بحران کے حل میں ناکامی نے عوام کو بھی مشتعل کر دیا ہے۔ سوموار کے روز سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری مفاہمتی مذاکرات اور نئے وزیراعظم کے نام پراتفاق سے متعلق مذاکرات جاری رہے لیکن سڑکوں پر عوام نے بھی مفاہمتی مذاکرات کی حمایت اور سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مظاہرے کیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں بھی عوامی حلقوں میں مایوسی ہے۔ تاہم بعض حلقے حالات میں جلد بہتری کی توقع کر رہے ہیں۔ عوامی اور سماجی سطح پر بحران کے حل میں ناکامی پرسب سے زیادہ تنقید حکمراں اسلام پسند جماعت النہضہ پر کی جا رہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ النہضہ کی پالیسیوں کے باعث نہ صرف ملک سیاسی سطح پر کمزور ہوا بلکہ بری طرح معاشی عدم استحکام سے بھی دوچار ہوا ہے۔ بار بار کے مذاکرات اور بے نتیجہ رہنے والی ملاقاتوں نے عوام کو سیاسی جماعتوں کے کردار سے سخت مایوس کیا ہے۔ عوام میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا سیاسی جماعتوں نے مفاہمتی مذاکرات کو "پتلی تماشا" بنا رکھا ہے۔ وہ صرف عوام کو دھوکہ دینے کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔ حقیقت میں وہ بحران کے حل کے خواہاں نہیں ہیں؟۔

خیال رہے کہ سیاسی جماعتوں کے مابین نئی حکومت کی تشکیل اور وزیر اعظم کے نام پر گذشتہ ہفتے دو مرتبہ مذاکرات اختلافات کے بعد ڈیڈ لاک کا شکار ہوئے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ تیونس میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت ایک مشکل مرحلہ ہے اور نئی حکومت کی تشکیل اس سے بھی مشکل ہے۔ نئی حکومت میں شامل تمام شخصیات کا سیاسی طور پر غیر جانبدار رہنا انتہائی مشکل ہو گا۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت رکھنے والی جماعت تحریک النہضہ تمام وزارتوں سے دسبترداری کا مطالبہ کیسے قبول کرے گی۔