.

الجزائر کی سلفی تنظیم "حماۃ الدعوہ" القاعدہ میں ضم

شدت پسند تنظیموں کے اتحاد کی راہ ہموار ہو گئی: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں سلفی مسلک کی پیروکار سخت گیر تنظیم "حماۃ الدعوہ" نے مغرب اسلامی میں سرگرم شدت پسند تنظیم القاعدہ میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مغرب اسلامی میں القاعدہ کے شعبہ اطلاعات "اندلس فاؤنڈیشن" کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ الجزائر کی "حماۃ الدعوہ" اب القاعدہ میں شامل ہوچکی ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے جاری بیان میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ الجیرین سلفی مسلک کی نمائندہ حماۃ الدعوہ [محافظین دعوت سلفیہ] نظریات، افکار، طریقہ کار اور فیلڈ کارروائیوں میں القاعدہ کے زیر کمان ہو گی۔ دونوں تنظیموں کے درمیان کسی قسم کا فرق نہیں ہو گا اور یہ ملکر مشترکہ اہداف پر حملے کریں گی۔

خیال رہے کہ "حماۃ الدعوہ السلفیہ" کا باضابطہ قیام سنہ 1997ء میں عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ تنظیم قائم کرنے والے جنگجو پہلے "الاھوال بریگیڈ" کے نام سے ایک گروپ میں منظم تھے۔ تنظیم کے بانی محمد بن سلیم المعروف "سلیم افغانی" نے سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔

افرادی قوت کی کمی کے باعث یہ تنظیم زیادہ مشہور نہیں ہو سکی ہے اور الجزائر سمیت کسی بھی افریقی ملک میں اس تنظیم کی کوئی قابل ذکر سرگرمیاں بھی نہیں رہیں۔ ماضی میں اس تنظیم نے الجزائر کی القاعدہ میں شمولیت سے انکار کر دیا تھا۔

جہادی گروپوں کی صف بندی

مبصرین کا خیال ہے کہ الجزائری سلفی تنظیم کی القاعدہ میں شمولیت سے ملک میں دہشت گردانہ حملوں میں شائد کوئی خاص فرق نہ پڑے مگر اس کا دہشت گردوں کو اپنی صف بندی کا فائدہ ضرور ہوگا۔ خطے میں ہم خیال سمجھے جانے والے عسکریت پسند گروپ القاعدہ کی چھتری تلے جمع ہوسکتے ہیں۔

الجزائر میں دینی وعسکری جماعتوں کےامورکے ماہرھادی یحمد نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "حماۃ الدعوۃ" کے اقدام سے مغرب اسلامی میں سرگرم تمام جہادی تنظیموں کو القاعدہ کے پرچم تلے جمع ہونے کا موقع ملے گا۔ گو کہ میرے خیال میں حماۃ الدعوۃ کوئی بڑی عسکری تنظیم نہیں ہے، تاہم اس کی القاعدہ میں شمولیت سےعسکریت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ اس کے علاوہ القاعدہ کے منحرف گروپوں میں پائے جانے والے اختلافات کم کرنے میں بھی مدد ملے گی"۔

ھادی یحمد کا کہنا تھا کہ افغانستان جنگ میں حصہ لینے والی کسی بھی تنظیم کے لیے القاعدہ میں شمولیت کوئی اچنھبے کی بات نہیں ہے۔ یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ حماۃ الدعوۃ سنہ 2007ء کے بعد سے افغانستان میں القاعدہ کے حملوں کی حمایت کرتی رہی ہے۔ تاہم اس میں موجود مٹھی بھر افراد کا تعلق الجزائر سے ہے۔ یہ امکان موجود ہے کہ القاعدہ میں شمولیت کے بعد بیرون ملک سے بھی جنگجو عناصر تنظیم میں شامل ہوسکتے ہیں۔