جنوبی سوڈان: باغیوں کا بور پر دوبارہ قبضے کا دعویٰ

سرکاری فوج کی تردید، شہر میں ابھی شدید لڑائی جاری ہے: فوجی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوبی سوڈان میں باغیوں نے منگل کو علی الصباح سرکاری فوج پر حملہ کر کے ریاست جنگلئی کے دارالحکومت بور پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

باغیوں کے ترجمان موسس روئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''بور اب ہمارے کنٹرول میں ہے اور ہم اس شہر میں موجود ہیں''۔ جنوبی سوڈان کی حکومت کے عہدے داروں نے اس سے پہلے اس شہر میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاع دی تھی لیکن انھوں نے باغیوں کے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

جنوبی سوڈان کی فوج کے ترجمان فلپ اجوئر نے بھی باغیوں کے دعوے سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ بور میں لڑائی ابھی جاری ہے اور یہ ختم نہیں ہوئی۔بور دارالحکومت جوبا سے دو سو کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔اس شہر میں جنوبی سوڈان کی سرکاری فوج اور سابق نائب صدر ریک ماشر کے وفادار جنگجوؤں کے درمیان گذشتہ پندرہ روز سے وقفے وقفے سے لڑائی ہو رہی ہے۔ باغیوں نے پہلے بھی اس شہر پرقبضہ کر لیا تھا لیکن سرکاری فوج نے لڑائی کے بعد انھیں شہر سے نکال باہر کیا تھا۔

بور کے مئیر نحیال مجاک نحیال نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقی افریقی ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے لیے دی گئی ڈیڈلائن کے باوجود جھڑپیں جاری ہیں اور اب ہم باغیوں سے لڑ رہے ہیں۔ افریقی ممالک کے لیڈروں نے جنوبی سوڈان کے صدر سلواکیر اور ریک ماشر کے درمیان مذاکرات کے لیے منگل کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔

جنوبی سوڈان نے افریقی یونین کی دعوت پر ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں امن مذاکرات کے لیے ایک وفد بھیجنے کا اعلان کیا ہے اور باغی لیڈر ریک ماشر نے بھی کہا ہے کہ وہ بھی ایک وفد ادیس ابابا روانہ کریں گے۔

درایں اثناء صدر سلواکیر نے جنوبی سوڈان میں جاری تنازعے کے حل کے لیے حزب اختلاف کے لیڈر ریک ماشر کے ساتھ شراکت اقتدار کے کسی فارمولے کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نےبرطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ''اقتدار کے خواہاں لوگ اس طرح ہتھیار بند نہیں ہوتے اور نہ بغاوت کرتے ہیں،انھیں اقتدار تک پہنچنے کے لیے ایک جمہوری عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔میں شروع دن سے ہی یہ کہہ رہا ہوں کہ میں اس بحران کو پرامن طریقے سے طے کروں گا''۔

جنوبی سوڈان کی سرکاری فوج اور سابق نائب صدر ریک ماشر کے حامی مسلح دستوں کے درمیان 15 دسمبر سے سے جھڑپیں جاری ہیں جن میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ واضح رہے کہ سلواکیر اور ماشر دو مختلف نسلی گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سوڈان کی خانہ جنگی کے دوران الگ الگ گروپوں کی جانب سے خرطوم کی فوجوں کے خلاف لڑتے رہے تھے اور اب ان کے حامی دستے ایک دوسرے سے باہم برسرپیکار ہیں۔ صدر سلواکیر نے ماشر کے حامی جنگجوؤں پر اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام عاید کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں