.

شام میں امن، ایران کو جنیوا ٹو کی دعوت نہیں دی گئی

ایران کی شرکت کا فیصلہ 13 جنوری کو امریکا اور روس کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شام کے مسقبل کے حوالے متوقع دوسری جنیوا امن کانفرنس کے امکانی شرکاء کو دعوت نامے بھجوا دیے ہیں، تاہم مدعوئِین کے ناموں کی فہرست میں ایران کا نام شامل نہیں ہے۔

امکان ہے کہ جنیوا ٹو میں ایران کو شرکت کی دعوت دینے یا نہ دینے کا حتمی طور پر فیصلہ 13 جنوری کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران ہو سکے گا۔ جان کیری کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران بھی شام کی صورتحال اور جنیوا ٹو کے شرکاء ایک اہم موضوع رہے ہیں۔

امریکی عہدے داروں نے ایران سے کہا ہے کہ وہ شام کے شمالی شہر حلب میں صدر بشارالاسد کی فوج کی بمباری رکوانے اور خانہ جنگی سے متاثرہ افراد تک انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے کردار ادا کرے۔

اس سے پہلے برسلز میں امریکی عہدے داروں نے سوموار کو کہا تھا کہ اگر ایران یہ کردار ادا کرتا ہے تو دوسرے ممالک شام سے متعلق مجوزہ جنیوا مذاکرات میں ایران کے کردار کو سود مند خیال کریں گے۔ایک امریکی عہدے دار کے بہ قول:''ایران بعض ایسے اقدامات کرسکتا ہے جس سے عالمی برادری کو یہ اشارہ ملے گا کہ ایرانی مثبت کردار ادا کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں''۔

ایک اور امریکی عہدے دار نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''ان اقدامات میں ایک تو یہ ہے کہ ایران شامی رجیم کی اپنے ہی عوام پر بمباری کو رکوائے اور انسانی امداد کی رسائی کی حوصلہ افزائی کرے''۔وہ شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں شامی فوج کی بمباری اور خانہ جنگی کا شکار علاقوں میں پھنسے ہوئے شامیوں تک انسانی امداد پہنچانے کا حوالہ دے رہے تھے۔

تاہم ایک اور امریکی عہدے دار کا کہنا تھا:''واشنگٹن کو اب بھی اس بات کا یقین ہے کہ 22 جنوری کو ہونے والی جنیوا دوم کانفرنس میں ایران کا کوئی کردار نہیں ہے''۔ان تمام عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا نے جنیوا مذاکرات کے حوالے سے براہ راست کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اتوار کو ایک بیان میں اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ امریکا کے نزدیک ایران جنیوا دوم مذاکرات کا باضابطہ رکن/فریق نہیں ہے کیونکہ اس نے 2012ء میں منعقدہ جنیوا اول کانفرنس میں طے شدہ بین الاقوامی سمجھوتے کی حمایت نہیں کی تھی۔

دوسری جانب شامی اپوزیشن میں شامل شامی قومی کونسل جنیوا ٹو کے سخت خلاف ہے جبکہ بقیہ اپوزیشن میں بھی ایران کو جنیوا ٹو میں شریک کرنے کے خلاف سخت رائے پائی جاتی ہے۔

جبکہ امریکی حکام اس بارے میں امکان کو کلی طور پر رد نہیں کرتے کہ ایران جنیوا ٹو کا حصہ بن سکتا ہے ۔ ایک امکان یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ایران کو کم از کم جنیوا ٹو کی سائیڈز لائینز تک رسائی مل جائے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ ابھی تک امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست کوئِی بات نہیں ہوئی ہے۔

اس بارے میں ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان مرضیہ افہام کا کہنا ہے کہ ''ایران نے پہلے ہی جنیوا ٹو میں پیشگی شرائط کے بغیر شرکت پر آمادگی ظاہر کر رکھی ہے۔ ایران صرف ایسی پیش کش قبول کرے گا جس میں اس کے قومی وقار کو ملحوظ رکھا جائے گا۔