.

جاسوسی کے معاملات پر اوباما کی متعلقہ حکام سے ملاقات

قومی سلامتی ایجنسی میں اصلاحات کی تجاویز پر غور اور مشاورت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے حکام سے ملاقات کے کرکے ادارے میں اصلاحات کی تجاویز کو حتمی شکل دینے کا کام شروع کر دیا ہے۔ یہ ضرورت نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے بھگوڑے اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے عالمی سطح پر کیے جانے انکشافات اور ادارے کی ورکنگ کے طریقے سامنے لانے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔

امریکی قومی سلامتی کے ادارے کی صدر سے ملاقات کے موقع پر نائب صدر جو بائیڈن کے علاوہ سی آئی اے کے سربراہ جان برینن اور ایف بی آئی کے جیمز کومے، نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ جنرل کیتھ الگزنڈر اور دیگر متعلقہ اداروں ذمہ داران بھی بطور خاص موجود تھے۔

جبکہ دیگر ماہرین کے علاوہ امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر سمیت ماہر قانون دانوں کی بھی اس موقع پر مدد لی گئی تاکہ نجی معاملات میں مداخلت قومی سلامتی کے تقاضوں میں توازن کا اہتمام ہوسکے۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کے مطابق یہ صدر اوباما کیلیے ایک اہم موقع تھا کہ وہ قومی سلامتی سے متعلق اپنی ٹیم کو براہ راست سن سکیں تاکہ اصلاحات کے عمل میں آسانی رہے کہ انٹیلیجنس سے متعلق معاملات میں آگے کیسے بڑھنا ہے۔''

صدر اوباما نے نجی حقوق کے لیے سرگرم اداروں اور نجی آزادیوں کے ذمہ داران اور این جی اوز کے لوگوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان کے مطابق صدر نے ان سے وعدہ کیا کہ اہم فیصلوں کے حوالے سے انہیں بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔

آج صدر اوباما ان ارکان کانگریس سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں جو اراکین جو انٹیلی جنس اور ملکی سلامتی کی کمیٹیوں کا حصہ ہیں یا انسانی آزادیوں کے امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ اس بارے میں امکان ہے کہ صدر اوباما اسی ماہ کے اخر میں ایک خطاب کے دوران حتمی پالیسی کااعلان کریں گے۔ واضح رہے صدر کا سالانہ یونین خطاب 28 جنوری کو طے ہے۔