.

رفیق حریری قتل کیس میں حزب اللہ ارکان کے خلاف فرد جرم عاید

شیعہ جنگجو تنظیم کے خلاف اقوام متحدہ کے ٹرائبیونل میں دستاویزی شواہد پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے قائم کردہ خصوصی ٹرائبیونل برائے لبنان (ایس ٹی ایل) نے سابق وزیراعظم رفیق حریری کی نوسال قبل خودکش بم دھماکے میں ہلاکت کے الزام میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے چارارکان کے خلاف فرد جرم عاید کردی ہے۔

رفیق حریری اور ان کے ساتھ بم دھماکے میں ہلاک شدہ بائیس دوسرے افراد کے مقدمے کی سماعت نیدر لینڈز کے شہر ہیگ کے نزدیک قائم اقوام متحدہ کے خصوصی ٹرائبیونل برائے لبنان (ایس ٹی ایل) میں جمعرات کو شروع ہوئی ہے۔

پراسیکیوٹر نورمین فیرل نے ٹرائبیونل کو بتایا کہ اس کیس کے شواہد میں موبائل فون کالز کے ڈیٹا کی بھاری مقدار شامل ہے جو حزب اللہ کے مشتبہ ملزموں نے بم دھماکے کی منصوبہ بندی اور پھر اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کی تھیں اور انھوں نے بم دھماکے سے بیروت کی شاہراہ کو جہنم زار میں تبدیل کردیا تھا۔

ٹرائبیونل کے صدر جج ڈیوڈ ری نے عدالت کو بتایا کہ ''پراسیکیوٹر سیکڑوں گواہوں اور شواہد کو اس ٹرائل کے دوران پیش کرنا چاہتے ہیں''۔انھوں نے کمرۂ عدالت میں بم دھماکے کی منظرکشی کے لیے ایک بہت بڑا ماڈل بھی پیش کیا تھا۔عدالت میں ایک عکسی سینٹ جارج ہوٹل کے سامنے تین ہزار کلوگرام دھماکا خیز مواد سے لدی مٹسوبشی وین کھڑی کی گئی تھی۔بیروت میں اسی طرح کی بارود سے لدی گاڑی کے دھماکے کے نتیجے میں سڑک پر ایک گہرا گڑھا پڑ گیا تھا۔

مسٹر فیرل نے عدالت کو بتایا کہ حملہ آوروں نے دھماکے کے لیے ضرورت سے زیادہ طاقتور بارود کی غیر معمولی مقدار استعمال کی تھی۔انھوں نے اس بات کا بھی کوئی خیال نہیں کیا تھا کہ دھماکے میں ان کے اپنے ہم وطن ہی مریں گے لیکن وہ ہر حال میں ایسا کرنا چاہتے تھے۔

رفیق حریری قتل کیس کی سماعت کے آغاز کے موقع پر ان کے بیٹے اور لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری بھی دوسرے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیگ کے نزدیک قائم کی گئی اس خصوصی عدالت میں موجود تھے۔اس موقع پر انھوں نے کہا:''آج ہماری یہاں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم انصاف چاہتے ہیں،کوئی انتقام نہیں چاہتے۔اب لبنان کو انصاف دلانے کا وقت آگیا ہے''۔

ایس ٹی ایل کے پراسیکیوٹر نے جولائی 2011ء میں حزب اللہ کے چار ارکان کے خلاف نو الزامات میں فرد جرم جاری کی تھی لیکن شیعہ عسکری تنظیم نے اس واقعہ میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے جن کارکنان کے خلاف فرد جرم عاید کی گئی ہے ،انھیں ہیگ میں قائم ٹرائبیونل کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

ٹرائبیونل نے جون 2012ء میں حزب اللہ کے ان چار مشتبہ ارکان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے لیکن بعد میں لبنانی حکام نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ ان میں سے کسی کا بھی سراغ لگانے میں ناکام رہے تھے۔حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے چاروں ملزموں کے نام سلیم عیاش ،مصطفیٰ بدرالدین،حسین انیسی اور اسد صابرہ ہیں۔ان میں سے دو کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت ایران میں رہ رہے ہیں۔

ٹرائبیونل کے چیف پراسیکیوٹر نورمن فیرل نے اپنی فرد جرم میں کہا ہے کہ بدرالدین اور عیاش 14 فروری 2005ء کو بیروت میں خودکش بم حملے سے قبل رفیق حریری کی نگرانی کرتے رہے تھے جبکہ انیسی اور صابرہ نے تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کے لیے بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔

اڑتالیس سالہ سلیم عیاش اور پچاس سالہ مصطفیٰ بدرالدین کے خلاف دھماکا خیز مواد کے ذریعے دہشت گردی کی کارروائی انجام دینے پر پانچ الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی جبکہ اڑتیس سالہ حسین انیسی اور پینتیس سالہ اسد صابرہ پردہشت گردی کی کارروائی کے لیے معاونت اور منصوبہ بندی کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے پانچویں مشتبہ ملزم اڑتالیس سالہ حسن حبیب مرحی کو گذشتہ سال اس کیس میں ماخوذ کیا گیا تھا اور اب ان کا کیس بھی اس ٹرائل کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے۔

یادرہے کہ لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری فروری 2005ء مِیں دارالحکومت بیروت میں کاربم دھماکے جاں بحق ہوگئے تھے۔اس واقعے میں بائیس اور افراد بھی مارے گئے تھے۔لبنان کی طاقتور شیعہ تنظیم حزب اللہ کےارکان پر سابق وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا لیکن حزب اللہ متعدد مرتبہ اس واقعہ میں ملوث ہونےکی تردید کرچکی ہے اوراقوام متحدہ کے ٹرائبیونل پر امریکی اور اسرائیلی آلہ کار ہونے کا الزام عاید کرچکی ہےاوریہ کہہ چکی ہے کہ اقوام متحدہ کے تفتیش کاراسرائیل کواس سے متعلق معلومات فراہم کرتے رہے ہیں۔