.

ایران کو غیرمنجمد رقوم میں سے 50 کروڑ ڈالرز وصول

جنیوا عبوری سمجھوتے کے تحت ایران کو ساڑھے پانچ ارب ڈالرز دیے جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کو چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پائے عبوری جوہری سمجھوتے کے تحت ماضی میں مغربی ممالک میں منجمد کی گئی رقوم میں سے پچاس کروڑ ڈالرز وصول ہوگئے ہیں۔

ایران کے نائب وزیرخارجہ عباس عرقچی نے ایسنا نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ سمجھوتے کے تحت پچاس کروڑ ڈالرز کی پہلی قسط سوئس بنک اکاؤنٹ میں جمع کرادی گئی ہے۔

واضح رہے کہ جنیوا میں 24 نومبر کو ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام پر قدغنوں سے متعلق طے پائے عبوری سمجھوتے کے تحت چھے ماہ کی مدت میں چار ارب بیس کروڑ ڈالرز کی رقم اقساط کی شکل میں دی جائے گی۔وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق ایران کو ایک وقت میں ساڑھے چالیس سے ساڑھے پچاس کروڑ ڈالرز ادا کیے جائیں گے اور آخری قسط چھے ماہ کی مدت کے خاتمے کے آخری روز دی جائے گی۔

جنیوا سمجھوتے کے تحت ایران جوہری تحقیق اور ترقی کا کام تو کرسکتا ہے لیکن وہ نئے سینٹری فیوجز کی تنصیب نہیں کرسکتا۔تاہم ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا ملک سینٹری فیوجز کی تحقیق کے کام سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔

انھوں نے میونخ میں سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر غیرملکی خبررساں اداروں کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ''ہم جوہری پروگرام کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرنے جارہے ہیں اور میرے خیال میں ٹیکنالوجی اور سائںس کا جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے کوئی تعلق نہیں ہے''۔

ان سے جب 18 فروری کو ہونے والے آیندہ مذاکرات اور حتمی سمجھوتا طے پانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ''یہ تو ابھی حتمی سمجھوتے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہے اور حتمی قدم کا پہلا قدم ہے۔مجھے توقع ہے کہ اس میں ابھی کچھ اور وقت لگے گا۔

مذکورہ معاہدہ چھے ماہ کے عبوری دور کے لیے ہے۔اس دوران اگر ایران یورینیم کی افزودگی سے دستبردار ہوجاتا ہے تو پھر اس پر عاید عالمی پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی۔ اس کے تحت ایران افزودہ یورینیم کو پانچ فی صد کی سطح تک لائے گا۔وہ اپنی بیس فی صد تک افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کردے گا اوریورینیم کو پانچ فی صد کی سطح سے زیادہ مصفیٰ کرنے کے پروگرام کو منجمد کردے گا۔

اس سمجھوتے کے تحت ایران اضافی ایندھن کی تیاری کا تجربہ بھی نہیں کرے گا اور نہ مزید ایندھن پیدا کرے گا۔نیز وہ جوہری تنصیب میں باقی ماندہ آلات نصب نہیں کرے گا۔ وہ اپنے جوہری ری ایکٹر پر کام کرے گا اور نہ اس ری ایکٹر کی جگہ پر ایندھن یا بھاری پانی کو منتقل کرے گا۔اس سمجھوتے کے بعد سے ایران کو قریباً سات ارب ڈالرز تک ریلیف ملنے کی توقع ہے اور مغربی ممالک نے اس پر عاید کردہ بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کردی ہے۔