"امریکا اخوان کو لیبیا، مصر، تیونس میں اقتدار دلوانا چاہتا تھا"

بارود کے ڈھیر پے کھڑا لیبیا اپنے اور پڑوسی ملکوں کے لیے خطرہ ہے: جبریل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لیبیا کے سابق وزیر اعظم محمود جبریل نے کہا ہے کہ ان کا مُلک اپنی سالمیت اور خود مختاری کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملکوں کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے زوال کا سلسلہ بدستور جاری رہا تو لیبیا کی وحدت، معیشت حتی کہ ہمسایہ ملکوں کی سلامتی بھی سنگین خطرات سے دوچار ہو جائے گی۔

لیبیا کے سابق وزیر اعظم محمود جبریل نے ان خیالات کا اظہار ایک لبنانی اخبار کو انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مصر کے اندر جاری سیاسی رسا کشی بھی اسے دوسرا لیبیا بنانے کی کوشش ہے کیونکہ ہمیں ایسی ٹھوس اطلاعات ملی ہیں کہ مصر کے اندرونی انتشار کو مزید پھیلانے کے لیے باہر سے اسلحہ، افراد اور رقوم پہنچائی جا رہی ہیں۔ محمود جبریل کا یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ماہ کی سترہ تاریخ کو لیبیا میں انقلاب کی تیسری سالگرہ منانے کی تیاریاں بھی عروج پر ہیں۔

عرب روزنامہ "الحیاۃ" سے گفتگو کرتے ہوئے لیبیا کے سابق وزیراعظم نے امریکی پالیسیوں پر بھی سخت نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا میں بغاوت کے دوران امریکا کا دوہرا معیار کُھل کرسامنے آیا۔ لیبیا، مصر اور تیونس میں امریکا کا پروگرام اخوان المسلمون کو اقتدار دلانا تھا، تاکہ اسلام پسندوں کی مدد سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے میں مدد لی جا سکے۔ امریکا کے اس سیاسی پروگرام پرعمل درآمد میں دو علاقائی 'ایجنٹوں' قطر اور ترکی نے بھی بھرپورمدد کی۔ مصر میں ایک سال تک تو امریکی پروگرام کے مطابق اخوان المسلمون کی حکومت قائم رہی مگر مصری عوام نے امریکیوں اور ان کے ایجنٹوں کی سازش بھانپ لی اور جنرل عبدالفتاح السیسی کے ذریعے اخوانی صدر محمد مرسی کو برطرف کرا کے امریکی پروگرام کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصر اور الجزائر جیسے ممالک کے سیاسی کردار کے خاتمے کے نتیجے میں اسلام پسند اور ان کے حامی ممالک کو بغاوت کی تحریکوں پر اثرانداز ہونے کا موقع فراہم کیا اور اس کے نتائج آج لیبیا اور تیونس میں ہمارے سامنے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں محمود جبریل کا کہنا تھا کہ خلیجی ریاست قطر نے لیبیا میں انقلاب کی تحریک میں مدد کی مگر تحریک کے اوائل ہی سے دوحہ دو متوازی خطوط پر چلتا رہا ہے۔ دوحہ دراصل لیبیا میں اسلام پسندوں کی حکومت کا خواہاں تھا۔ ہمارے پاس اس امر کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں دوحہ حکومت جنگجو تنظیم 'جماعت اسلامی' کے سابق امیر عبدالحکیم بلحاج کو لیبی باغیوں کا سربراہ بنانے کی خواہاں تھی۔ قطر کے سابق امیر الشیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے لیبی باغیوں سے اسلحہ واپس لینے کی مہمات کی بھی مخالفت کی تھی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ لیبیا میں ما بعد انقلاب فرانسیسی صدر نیکولا سارکوزی نے بھی ایک فارمولہ تیار کیا تھا۔ انہوں نے یہ پروگرام مقتول لیڈر کرنل قذافی کے پرنسپل سیکرٹری بشیر صالح کی مدد سے شروع کیا تھا جس کا مقصد لیبیا کو فرانس کی نگرانی میں دینا تھا۔ اس پروگرام کے تحت مجھے [محمود جبریل] کو چار سال کے لیے وزیر اعظم اور پھر قذافی کے فرزند سیف الاسلام کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع دینے کی شرط رکھی گئی تھی۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کسی نے بھی اس فارمولے کی حمایت نہ کی۔

محمود جبریل نے انکشاف کیاکہ جب کرنل قذافی انقلابی تحریک کچلنے میں ناکام رہے تو انہوں نے مایوس ہو کر ملک کو پانچ ٹکڑوں میں تقسیم کرنے منصوبہ تیار کیا۔ بعد ازاں اس پروگرام کی دستاویزات سابق وزیر اعظم البغدادی محمودی کے دفتر سے ملی تھیں۔

سابق وزیر اعظم نے ملک کے طول وعرض میں پائے جانے والے اسلحہ اور گولہ بارود کی بھاری مقدار کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا بارود کے ڈھیر پرکھڑا ہے۔ باغیوں سے اسلحہ واپس لینے کی مہمات کے باوجود اب بھی شہریوں کے پاس 21 ملین ہتھیار موجود ہیں۔ ہتھیاروں کے اس بھاری ذخیرے کے ہوتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور ملک میں انارکی کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں