.

یوکرینی صدر اور حزب مخالف میں بحران کے خاتمے کے لیے سمجھوتا

یورپی یونین کی ثالثی میں مذاکرات میں قبل از وقت انتخابات کرانے پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین کے صدر وکٹر یانوکووچ اور حزب اختلاف کی تین بڑی جماعتوں کے نمائندوں نے ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے سمجھوتے پر دستخط کر دیے ہیں۔

اس سمجھوتے پر جمعہ کی صبح صدریانوکووچ، حزب اختلاف ، یورپی اتحاد اور روس کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات میں اتفاق رائے کیا گیا تھا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اس سمجھوتے کے تحت دسمبر2014 سے پہلے قبل ازوقت صدارتی انتخابات کرائے جائیں گےاور 2004ء کے آئین کو آیندہ اڑتالیس گھنٹوں میں بحال کیا جائے گا تاکہ یوکرین میں پارلیمانی نظام بحال ہو جائے۔اس کے علاوہ دس روز کے اندر قومی اتحاد کی نئی مخلوط حکومت بنائی جائے گی۔

سمجھوتے پر دستخط کے بعد جرمنی ،فرانس اور پولینڈ کے وزرائے خارجہ نے یوکرین کی مختلف سیاسی جماعتوں کے حوصلے اور عزم کو سراہا ہے جبکہ یورپی یونین کونسل کے صدر ہرمین وان رومپے نے ملک کے حریف دھڑوں پر زور دیا ہے کہ وہ اب اپنے الفاظ کو عملی جامہ پہنائیں۔

قبل ازیں یوکرینی صدر نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کی حمایت سے ملک میں جاری پُرتشدد مظاہروں کے خاتمے کے لیے قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔یوکرینی دارالحکومت کیف میں اس ہفتے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ستتر افراد مارے گئے ہیں۔

مغرب نواز مظاہرین نے کیف کے آزادی چوک میں دھرنا دے رکھا تھا اور وہ صدر یانوکووچ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے لیکن انھوں نے مستعفی ہونے کے بجائے قبل ازوقت انتخابات کرانے اور ملک میں صدارتی کے بجائے پارلیمانی نظام کو واپس لانے کے لیے 2004ء کے آئین کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔اس آئین کے تحت صدر کے بہت سے اختیارات وزیراعظم کو منتقل ہوجائیں گے۔

یوکرین کی سکیورٹی فورسز کے حکومت مخالفین مظاہرین پر تشدد کے بعد یورپی یونین نے اس ملک پر بعض پابندیاں عاید کردی تھیں جبکہ امریکا نے یوکرینی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے پرامن مظاہرین کے خلاف متشدد انہ کارروائیوں کا سلسلہ ختم نہ کیا تو اسے نتائج بھتنا پڑیں گے۔امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے یوکرین کے بیس اعلیٰ عہدے داروں کے نام ویزا بلیک لسٹ میں شامل کر لیے تھے اور مزید پابندیوں کی دھمکی دی تھی۔

درایں اثناء روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کے خلاف پابندیاں لگانے کی دھمکی کو ان کی بلیک میلنگ اور دُہرا معیار استعمال کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔روسی وزیرخارجہ نے اپنے عراقی ہم منصب ہوشیار زیباری کے ساتھ مذاکرات کے اختتام پر نیوز کانفرنس میں کہا کہ مغربی ملکوں کے دارالحکومتوں میں یوکرین کے واقعات کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور جو تبصرے کیے جا رہے ہیں،ہم ان پر واقعی پریشان ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مغرب کے ذرائع ابلاغ میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یوکرین کی حکومت وہاں ہونے والے واقعات پہ خاموش رہے۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ وہاں میدان میں کون کیا کر رہا ہے۔پولیس پر پھینکے جانے والے پٹرول بموں،پولیس اہلکاروں کے قتل اور سرکاری عمارات پہ قبضے سے متعلق مغربی ذرائع ابلاغ میں کوئی تبصرہ دیکھنے میں نہیں آرہا ہے۔