.

یمنی فوج اور حوثی باغیوں میں جھڑپیں،24 ہلاک

حوثی باغیوں کی حزم میں سرکاری عمارات پر قبضے کی کوشش،فوج کی مزاحمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی فوج اور اس کے اتحادی اسلام پسندوں اور حوثی شیعہ باغیوں کے درمیان ملک کے شمال میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں اور ان میں چوبیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یمنی فوجی دارالحکومت صنعا سے شمال مشرق میں واقع صوبے جوف کے دارالحکومت حزم میں حوثیوں کے خلاف لڑائی میں اسلام پسند جماعت الاصلاح سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی مدد کر رہے ہیں۔ایک قبائلی ذریعے نے بتایا ہے کہ لڑائی میں فوج اور الاصلاح کے آٹھ افراد مارے گئے ہیں جبکہ حوثیوں کا جانی نقصان اس سے دگنا ہے اور بیسیوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک قبائلی ذریعے کا کہنا ہے کہ حوثی باغی حزم میں سرکاری عمارات پر قبضے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ فوجی اور اسلام پسند سرکاری کمپلیکس کا بھرپور دفاع کررہے ہیں اور ان کی مزاحمت کا مقابلہ کرنے کے لیے حوثیوں نے مزید کمک طلب کی ہے۔

اسی ماہ یمنی صدرعبد ربہ منصور ہادی اور بڑی سیاسی جماعتوں نے بدامنی کا شکار ملک کو سیاسی انتقال اقتدار کے منصوبے کے حصے کے طور پر چھے علاقوں پر مشتمل وفاق میں تبدیل کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

حوثی باغی حزم پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تا کہ جوف کو مجوزہ وفاق میں شامل ازال میں شامل کیا جاسکے۔یمنی صدر اور سیاسی جماعتوں کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے تحت جوف کو سبا کے علاقے میں شامل کیا جائے گا۔اسی علاقے میں صوبہ مآرب اور بائدہ شامل ہوں گے۔

حوثی باغی اور جنوبی یمن کے علاحدگی پسند مجوزہ وفاقی ڈھانچے کو مسترد کرچکے ہیں۔حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد سے یمن غریب اور امیرعلاقوں میں منقسم ہوجائے گا۔چنانچہ وہ اس منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں اپنے زیر تسلط علاقوں میں اضافے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ شمالی پہاڑی علاقوں سے اتر کر دارالحکومت صنعا کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت حوثی باغیوں کی جنگجو تنظیم انصاراللہ کے مضبوط گڑھ شمالی صوبے صعدہ کو ازال ریجن میں شامل کیا جائے گا۔اس میں صنعا ،عمران اور ضامر بھی شامل ہیں۔اس علاقے کے کوئی قدرتی وسائل نہیں اور سمندر تک بھی اس کی براہ راست رسائی نہیں ہے۔

شیعہ باغیوں کا کہنا ہے کہ جمہوریہ یمن کی چھے حصوں میں تقسیم اور اس کو فیڈریشن بنائے جانے کے باوجود دولت کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی جبکہ جنوبی دھڑے کا کہنا ہے کہ منصوبہ ان کی علاحدگی اور خودمختاری کے لیے امنگوں کو پورا نہیں کرتا ہے۔