یمن: حوثی رہنما نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک
مذاکرات کیلیے آنے والے دوسرے حوثی رہنما کی ہلاکت
نامعلوم مسلح افراد نے باغی حوثی فرقے کی نمائندگی کرنے والے ایک پروفیسر کو ہلاک کر دیا ہے۔ احمد شریفالدین حوثی کو باغیوں کا نمایاں رہنما مانا جاتا تھا۔
سکیورٹی حکام کے مطابق پروفیسر احمد شریف الدین اپنے گھر سے گاڑی چلاتے ہوئے یمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک ہوٹل کی طرف آ رہے تھے۔ جہاں انہوں نے جاری کشیدگی کے خاتمے کیلیے بات میں شرکت کرنا تھی۔
حوثی رہنما کو صنعا کے مرکزی حصے صبا راونڈ اباوٹ پر گولیوں کا نشانہ بنانے کے بعد نامعلوم بندوق بردار موقعے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ پروفیسر احمد شریف الدین موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
احمد حوثی بات چیت کے لیے آتے ہوئے ہلاک ہونے والے دوسرے حوثی رہنما ہیں۔ اس سے پہلے پارلیمنٹ کے رکن عبدالکریم جدبان ماہ نومبر کے دوران میں اسی طرح کے ایک واقعے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ حوثی اور صوبہ امران کے با اثرقبائل کے درمیان کئی بار کی جنگ بندی کے بعد بھی اصلاح بگاڑ کا شکار ہوتی رہتی ہے۔ یہ لڑائی یمن کے شمالی علاقوں میں کئی ماہ تک جاری رہی ہے۔ باغیوں کا شمالی علاقے سادا میں مضبوط گڑھ ہے۔ باغیوں نے کئی ماہ تک سادا صوبے کے شہر دماج کو محاصرے میں لیے رکھا ہے۔
-
یمن: بندوق برداروں کے حملے میں ایرانی سفارتکار ہلاک
مفرور حملہ آور سفارتکار کو اغوا کرنا چاہتے تھے
بين الاقوامى -
یمن: القاعدہ جنگجوؤں کے حملوں میں 10 فوجی ہلاک
فوج کی جوابی کارروائی میں بعض حملہ آور بھی مارے گئے
بين الاقوامى -
یمن: شمالی صوبے میں فوج کی تعیناتی شروع
تین ماہ سے جاری شیعہ سلفی لڑائی بند کرنے کے بعد فوج پہنچی
مشرق وسطی