"بیرونی طاقتوں کا مقابلہ مضبوط قوم ہی کر سکتی ہے"

ثقافت، معیشت سے بھی زیادہ اہم ہے، اسے آلودہ نہیں ہونا چاہیے: خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ''صرف ایک مضبوط قوم کے طور پر ہی بیرونی طاقتوں کے 'دباٶ' اور 'ظلم' سے بچا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کیلیے ایران کو معاشی اور ثقافتی اعتبار سے آزاد بنانا ضروری ہے۔'' ایران کے سب سے بڑے رہنما نے ان خیالات کا اظہار ملک کے شمالی شہر مشہد میں ''نو روز'' کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔

آیت اللہ خامنہ ای کا براہ راست نشر کی گئی تقریر کے دوران کہنا تھا کہ ''دنیا کی استحصالی طاقتیں کمزور اقوام کو بلیک میل کریں گی۔ اس مقصد کیلیے یہ طاقتیں کمزوروں کی توہین کریں گی، ان پر چڑھائی کریں گی اور انہیں اپنے پاوں تلے روندنا چاہیں گے۔"

واضح رہے ایران اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے معاشی پابندیوں کی زد میں ہے۔ مغربی ممالک کا موقف ہے کہ ایران جوہری صلاحیت کے حصول کیلیے کوشاں ہے جبکہ ایران اس کی تردید کرتا ہے۔ اس تنازعے کو طے کرنے کیلیے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان پچھلے سال 24 نومبر کو جنیوا میں ایک ابتدائی معاہدہ طے پا چکا ہے جس پر آج کل عملدر آمد کا مرحلہ چل رہا ہے۔

خامنہ ای نے اپنے خطاب کے دوران یہ بھی کہا ہے کہ ''ثقافت معیشت سے بھی زیادہ اہم ہے۔'' ان کا کہنا تھا ''یہ ہوا ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں، اگر یہ صاف نہ ہو گی تو سانس لینا دشوار ہو جائے گا، اسی وجہ سے ہمارے دشمن کی توجہ کسی بھی اور چیز سے زیادہ ہماری ثقافت پر ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں