.

فُحش ویڈیو رکھنے کی پاداش میں سعودی، اردنی کو 06 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک عدالت نے اردن اور ایک سعودی شہری کو فحش ویڈیو رکھنے اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ تعلقات کے الزام میں چھ سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ریاض کی ایک عدالت میں سعودی ملزم کو پیش کیا گیا جہاں اس نے عدالت کے سامنے اقبال جرم کرتے ہوئے فحش ویڈیو دیکھنے اور ان کا ریکارڈ اپنے کمپیوٹر میں محفوظ رکھنے کا اعتراف کیا۔ عدالت نے ملزم کو گیارہ ماہ قید اور رہائی کے بعد اتنا ہی عرصہ بیرون ملک سفر پر پابندی کی سزا سنائی۔ سعودی ملزم پر اپنے کمپیوٹر میں "جہاد و قتال" پر اکسانے والی کئی تقاریر اور ویڈیو بھی محفوظ کر رکھی تھیں۔ اس کے علاوہ اس کے کمپیوٹر کا ریکارڈ چیک کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ مشکوک اور گمراہ فرقوں کی ویب سائیٹس کو بھی مسلسل وزٹ کرتا رہا ہے۔

اسی عدالت نے ایک اُردنی شہری کو فحش ویڈیو، تصاویر، اسلحہ سازی کے طریقوں کی تفصیلات رکھنے اور تخریبی کارروائیوں کے حامی گروپوں سے وابستگی کے الزام میں چھ سال قید کی سزاء سنائی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ایک فرمان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ موبائل اور کمپیوٹر میں محفوظ کی گئی فحش ویڈیو فوٹیج اور تصاوریر "انفارمیشن کرائم" کے زمرے میں نہیں آتیں بلکہ اس طرح کے تمام کیسز مخصوص شرعی عدالتوں میں پیش کیے جائیں گے۔ نیز کمپیوٹر، موبائل فون اور دیگر ڈیوائسز سے ملنے والی ویڈیوز کی بنیاد پرکارروائی ہو سکے گی اور یہی ثبوت ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے کافی ہوں گے۔