ایرانی جوہری معاہدہ، ڈرافٹ تیاری کیلیے مذاکرات شروع

دونوں جانب کے موقف میں اختلافات برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان حتمی معاہدے کا ڈرافٹ تیار کرنے کی غرض سے مذاکرات کا نیا دور ویانا میں شروع ہو گیا ہے۔ اس معاملے میں دونوں اطراف کے موقف میں بعض بنیادی نوعیت کے اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ایران کا موقف ہے کہ اسے یورینیم کی افزودگی کے لیے زیادہ سے زیادہ صلاحیت درکار ہے تاکہ ری ایکٹر کا کم افزودہ یورینیم سے ایندھن تیار کر سکے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرائن آشٹن کے ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ میں دو دنوں پر محیط ان مذاکرات کی میزبانی ایران کی طرف سے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کر رہے ہیں۔ جبکہ امریکا، روس، چین، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کے نمائندے شریک ہیں۔

واضح رہے آشٹن چھ عالمی طاقتوں کی طرف سے کوآرڈینیٹر کے طور پر موجود ہیں۔ عالمی طاقتیں توقع کرتی ہیں کہ ماہ مئی تک حتمی معاہدے کیلیے ڈرافٹ کر لیا جائے گا، تاہم دونوں جانب ابھی موقف میں واضح فرق موجود ہے۔ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی ایران کی یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت کو کم سے کم کرنے کے حق میں ہیں۔

ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان پچھلے سال 24 نومبر کو ابتدائی جوہری معاہدہ جنیوا میں ہوا تھا۔ اس ابتدائی معاہدے کے بعد ایران پر عاید پابندیوں میں قدرے نرمی کی گئی ہے۔ اب حتمی معاہدہ ماہ جولائی میں ممکن بنانے کیلیے کوششیں جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں