.

امریکا کا نامزد ایرانی سفیر کو ویزا دینے سے انکار

وائٹ ہاؤس نے ایران اور اقوام متحدہ کو فیصلے سے آگاہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس نے اقوام متحدہ کے لیے ایران کے نامزد سفیر حمید ابوطالب کو ویزا دینے سے انکار کردیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور ایران کو حمید ابو طالب کو ویزے جاری نہ کرنے کے فیصلے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔حمید ابو طالب ایرانی طلبہ کے اس گروپ میں شامل تھے جس نے 1979ء میں تہران میں امریکی سفارت خانے کا محاصرہ کیا تھا اور سفارتی عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔

امریکی فیصلے کے بعد اب شاید حمید ابو طالب نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں ایرانی سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام نہیں دے سکیں۔ وہ ایران کے ایک تجربے کار سفارت کار ہیں اور اس سے پہلے یورپی ممالک میں سفارتی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

بلومبرگ نیوز نے سب سے پہلے ان کے 1979ء میں امریکی سفارتی عملے کو یرغمال بنانے کے بحران میں کردار کی اطلاع دی تھی لیکن انھوں نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ تو صرف ایک مترجم کا کردار ادا کررہے تھے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے ابو طالب کو جاننے والے لوگوں کے حوالے سے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ وہ امام خمینی کے پیروکار مسلم طلبہ کا حصہ تھے۔اس گروہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا تھا لیکن وہ ان طلبہ میں شامل نہیں تھے جو بحران کے دوران امریکی سفارت خانے کے اندر گھس گئے تھے۔

ابوطالب کو ستمبر میں ایرانی صدر حسن روحانی کے دفتر برائے سیاسی امور میں ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔وہ شورائے نگہبان کے تحقیقاتی مرکز کی وسط ایشیائی شاخ کے بھی سربراہ تھے۔ایران ان کے اقوام متحدہ میں بطور سفیر تقرر سے متعلق امریکا کے تحفظات کو ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کرچکا ہے۔