.

منشیات کی بھاری مقدار سعودی عرب لانے کی کوشش ناکام

منشیات کی اسمگلنگ میں شامی مافیا ملوث ہے: سعودی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام سے تعلق رکھنے والے منشیات مافیا کی بحرین کے راستے منشیات کی بھاری مقدار سعودی عرب منتقل کرنے کی سازش ناکام بنا دی گئی ہے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ شام سے تعلق رکھنے والے منشیات مافیا نے کل اتوار کو منشیات کی 22 ملین ٹکیاں سعودی عرب منتقل کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم سعودی سیکیورٹی حکام نے بحرینی بارڈر پولیس کی مدد سے منشیات اسمگلنگ کی سازش ناکام بنا دی ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے میڈیا کو بتایا کہ بارڈر پولیس نے بحرینی سیکیورٹی حکام کے تعاون سے ایم فیٹا مین نامی منشیات کی 22 ملین، 85 ہزار 570 گولیاں قبضے میں لی ہیں، جن کی مالیت ارب، 38 ملین،21 ہزار 790 ریال سے زیادہ ہے۔ پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث پانچ سعودی اور ایک بحرینی کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ بحرین اور سعودی عرب کے درمیان شاہ فہد رابطہ پل کے راستے منشیات سعودی عرب پہنچانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ میجر جنرل منصور الترکی نے بتایا کہ منشیات کی اسمگلنگ کے لیے پلاسٹک اور خاردار تاروں کا استعمال کیا گیا تھا۔ اسمگلروں نے ایم فیٹا مین کی 7.660.000 گولیاں خار دار تاروں کے بنڈلوں اور 14.425.570 پلاسٹک کی تاروں کے بنڈلوں میں چھپائی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کی غیر معمولی مقدار سعودی عرب منتقل کرنے کی اس گھناؤنی سازش میں عالمی منشیات مافیا کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں ہمہ جہت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ میں شامی مافیا ملوث ہے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے سماج دشمن عناصر بھی اس میں ملوث ہو سکتے ہیں۔