.

سعودی عرب:یوسف الادریسی قائم مقام انٹیلی جنس چیف مقرر

شاہ عبداللہ نے شہزادہ بندر بن سلطان کو علالت کے پیش نظر عہدے سے ہٹا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے انٹیلی جنس چیف شہزادہ بندر بن سلطان کو ان کی علالت کے پیش نظر عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ ان کے نائب یوسف الادریسی کو محکمہ سراغرسانی کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا ہے۔

شہزادہ بندر طبی وجوہ کی بنا پر گذشتہ کئی ماہ سے منظرسے غائب ہیں۔قبل ازیں ان کے بارے میں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ وہ وہ امریکا کے ایک اسپتال میں اپنے کندھے کی سرجری کے بعد مراکش میں تیزی سے روبہ صحت ہورہے ہیں اور انھیں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے جولائی 2012ء میں جو اہم ذمہ داریاں سونپی تھیں،وہ جلد سنبھالنے کے لیے دارالحکومت ریاض لوٹ رہے ہیں۔

سعودی عرب مخالف میڈیا پر گذشتہ دو ڈھائی ماہ سے یہ پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا تھا کہ شہزادہ بندر کو برطرف کردیا گیا ہے اور اسی وجہ سے وہ منظر سے غائب ہیں۔نیز یہ کہ سعودی عرب نے علاقائی تنازعات سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے۔

واضح رہے کہ شہزادہ بندر نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مسلح اور سیاسی جدوجہد کرنے والے جیش الحر اور شامی حزب اختلاف کی قومی کونسل کی مدد کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔مغرب کی خبررساں ایجنسیوں اور سرکردہ اخبارات نے حالیہ ہفتوں کے دوران ان کی علالت کا تذکرہ تو ضرور کیا تھا لیکن بعض کا کہنا تھا کہ انھیں سعودی انٹیلی جنس کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں نے اپنے طور پر یہ نتیجہ بھی اخذ کرنے کی کوشش کی تھی کہ شہزادہ بندر کو خطے میں امریکا کی پالیسی کی مخالفت اور موجودہ امریکی انتظامیہ پر کھلے عام تنقید کی وجہ سے معزول کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کی تنقید کی وجہ سے وائٹ ہاؤس خوش نہیں تھا۔یادرہے کہ شہزادہ بندر کئی سال تک واشنگٹن میں سعودی سفیر کی حیثیت سے تعینات رہے تھے اور ان کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش سے قریبی ذاتی تعلقات تھے۔