ترک صدر:روسی طرز پرعہدے کے تبادلے کا امکان مسترد

''موجودہ حالات کے پیش نظر مستقبل کے لیے کوئی سیاسی منصوبہ نہیں بنایا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک صدر عبداللہ گل نے روس کے طرز پر وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کے ساتھ عہدے کے باہمی تبادلے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ابھی کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں بنایا ہے۔

ان سے جمعہ کو انقرہ میں جب روسی صدر ولادی میرپوتین اور وزیراعظم دمتری میدویدیف کے درمیان عہدوں کے تبادلے ایسے فارمولے پر ترکی میں بھی عمل درآمد کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا:''میں اس طرح کے فارمولے میں یقین نہیں رکھتا کہ یہ جمہوریت کے لیے مناسب ہے''۔انھوں نے مزید کہا کہ ''آج کے حالات کے پیش نظر میں نے مستقبل کے حوالے سے کوئی سیاسی منصوبہ نہیں بنایا ہے''۔

ترکی میں اگست میں ترمیم شدہ آئین کے تحت نئے صدارتی انتخاب ہوں گے جن میں ووٹربراہ راست صدر کا انتخاب کریں گے۔ان صدارتی انتخابات میں وزیراعظم رجب طیب ایردوآن امیدوار بنتے اور کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر عبداللہ گل کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کی پیش کش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ولادی میر پوتین 2012ء میں تیسری مرتبہ روس کے صدر منتخب ہوئے تھے۔اس سے پہلے دمتری میدویدیف ایک مدت کے لیے سربراہ ریاست رہے تھے اور اس دوران ولادی میر پوتین ملک کے وزیراعظم بن گئے تھے۔

عبداللہ گل اور رجب طیب ایردوآن دونوں ترکی کی حکمراں عدل اور ترقی پارٹی (اے کے پی) کے بانی رہ نما ہیں لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ان دونوں کے درمیان حالیہ مہینوں کے دوران حکومت کی جانب سے ٹویٹر پر پابندی اور مظاہرین کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ترک صدر نے حکومت کی مخالفین کو دبانے کے لیے سخت گیر پالیسی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔

رجب طیب ایردوآن اس وقت وزارت عظمیٰ کی تیسری مدت گزار رہے ہیں اور وہ اپنی جماعت کے قواعد وضوابط کے تحت چوتھی مدت کے لیے ملک کے وزیراعظم نہیں بن سکتے۔اس لیے اب وہ ملک کا صدر بننا چاہتے ہیں لیکن وہ اس سے قبل امریکا کے طرز پر صدر کے لیے زیادہ انتظامی اختیارات چاہتے ہیں۔

تاہم انھوں نے جمعہ کو انقرہ میں اے کے پارٹی کے ارکان پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''جماعت نے صدارت سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ہم نے اس اہم موضوع پر مشاورت شروع کردی ہے۔ہم آیندہ ہفتے مندوبین سے ملاقات کریں گے اوراپنے صدر سے بھی اس معاملے پر بات کریں گے''۔

واضح رہے کہ ترک صدر کو علامتی اختیارات ہی حاصل ہیں اور اس کی حیثیت نمائشی سے زیادہ نہیں ہے لیکن طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ اپنے مکمل اختیارات کو بروئے کار لائیں گے۔تاہم تجزیہ کاروں کے نزدیک اس صورت میں صدر اور وزیراعظم کے درمیان تنازعہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں