.

سعودی میڈیا: خواتین کا سیاہ برقع بھی زیر بحث آ گیا

بحث کا آغاز مجلس شوری کی رکن کے رنگین حجاب پہننے سے ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی مجلس شوری کی رکن خاتون کے روائتی سیاہ برقعے کے بجائے رنگین حجاب اوڑھ کر مجلس شوری کے اجلاس میں آنے نے سعودی میڈیا میں اس نئی بحث کی گنجائش پیدا کر دی ہے، کہ آیا سیاہ حجاب شرعی تقاضا ہے یا محض ایک روایت ہے ؟ نیز یہ کہ سعودی خواتین بالعموم سیاہ برقعہ، عبایا یا حجاب ہی اوڑھنا کیوں پسند کرتی ہیں۔ یہ بحث سعودی میڈیا میں شروع ہے۔

ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ سیاہ رنگ کا برقعہ پہننا لازم نہیں ہے بلکہ یہ خواتین کے ذوق اور انتخاب کا معاملہ ہے۔ وہ جس رنگ کو پسند کریں زیب تن کر سکتی ہیں۔ شریعت نے ایسی پابندی عاید نہیں کی ہے کہ خواتین کو سیاہ برقع ہی پہننا چاہیے۔ اس کے باوجو سعودی خواتین کی اکثریت حجاب اور عبایا عام طور پر اسی سیاہ رنگ کی منتخب کرتی ہیں۔ دوسری رائے عملی طور پر موجود ہے کہ سیاہ رنگ ستر کے حوالے سے کم از کم حجاب کی بہترین صورت ہے کہ یہ نظر بازوں کو کم متوجہ کرتا ہے۔

اس معاملے میں بعض خواتین اور انکے اہل خانہ شریعت کی شدت پسندانہ تشریح کا رجحان رکھتے ہیں حتی کہ شریعت میں مقصود نہ ہونے والی بعض اشیا کو بھی وہ شریعت کا تقاضا سمجھ کر اپنانے لگتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب سعودی مجلس شوری کی ایک رکن نے سیاہ رنگ کے علاوہ رنگین برقعہ پہن کر اس کے اجلاس میں شرکت کی تو بعض لوگوں نے ناراضگی ظاہر کرنا شروع کر دی۔ غالبا انہیں خاتون رکن کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کے گمان نے ناراض کیا تھا۔ یا رنگوں کے انتخاب کے ذریعے اپنا ذوق ظاہر کرنا انہیں پسند نہ آیا۔

بہت سے لوگ حیران ہوتے ہیں خواتین سیاہ حجاب اس لیے اوڑھتی ہیں کہ یہ ان کے مذہب کا حصہ ہے یا تمدنی روایت کا حصہ ہے، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ بعض مرد حجاب پہنے یا عبایا اوڑھے عورتوں کو کیسے دیکھتے ہیں۔ یقینا مردوں کی ایک قسم ایسی ہے جو خواتین کو صرف جنسی تناظر میں دیکھتے ہیں اور انہیں اپنی جنسی ضروریات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے مرد عمومی مرد نہیں ہوتے بلکہ اس قسم کے مرد مافوق الفطرت قسم کی چیز ہوتے ہیں۔

اس لیے وہ خواتین کو حجاب کے نیچے تک دیکھتے ہیں۔ یہ بھی جانچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ دراصل کردار کا مظہر ہوتے ہیں۔ عام مرد خواتین کو انسانی بنیادوں پر دیکھتے ہیں ، یہی ان کے کردار کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے خواتین کی سوچ یہ ہے کہ جب ایک مرد کسی خاتون کے بارے میں کوئی رائے دیتا ہے تو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اس کی اپنے بارے میں کیا رائے ہے۔

بہرحال سعودی معاشرہ جس کے بارے میں میڈیا میں یہ باتیں کہی جاتی ہیں کہ وہاں آزادی اظہار کے مسائل ہیں اب حالت یہ ہے کہ خواتین کے برقعوں کے رنگ کیا ہونے چاہیں اور کیا نہیں میڈیا کے موضوعات میں شامل ہونے لگا ہے۔ گویا سعودی عرب میں اب کہنے کی آزدی ماضی کی طرح نہیں ہے۔