اماراتیوں کے تحفظات؟ لندن میں معمول کا کاروبار جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کاروباری ماہرین کا کہنا ہے کہ لندن میں حال ہی میں اماراتی شہریوں پر دو وحشیانہ حملوں کے باوجود خلیجی مسافر برطانیہ کی سیر وسیاحت کے لیے جاتے رہیں گے اور حسب معمول اس مغربی ملک کے سفروں پر اپنی دولت اڑاتے رہیں گے۔

ٹریول ،تجارت اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے منافع میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی حالانکہ یو گورنمنٹ/العربیہ نیوز چینل کے ایک حالیہ سروے میں باون فی صد اماراتی شہریوں نے برطانیہ کو سیاحت کے لیے غیر محفوظ قراردیا ہے۔

گلوبل بلیو کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق لندن کی سیاحت پر جانے والے اماراتی شہری ویسٹ اینڈ مارکیٹ میں اوسطاً 1360 پاؤنڈز مالیت کی ٹیکس فری اشیاء خرید فرماتے ہیں۔یواے ای کے علاوہ کویت ،قطر اور سعودی عرب سے جانے والے سیاح بھی وہاں ٹیکس فری خریداری کرنے والے غیرملکیوں میں سرفہرست ہیں اور وہ تمام غیرملکی خریداروں کا چوبیس فی صد ہیں۔

برطانیہ کے شعبہ سیاحت ''وزٹ'' بریٹین کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اماراتی برطانیہ کے ایک سفر پر اوسطاً 1820 پاؤنڈز اڑا دیتے ہیں۔ریٹیل ماہرین کا کہنا ہے کہ اب رمضان کی آمد آمد ہے اور اس موقع پر تو خریداری کرنے والوں کا رش اور بھی بڑھ جاتا ہے۔

لندن کے وسط میں واقع ہوٹل کمبرلینڈ میں تین اماراتی خواتین پر ہتھوڑے سے حملے کے باوجود اس کے نواحی علاقے میں خریداروں کے رش میں کوئی واقع نہیں ہوئی ہے۔ویسٹ اینڈ کو خریداری مرکز بنانے میں پیش پیش نیو ویسٹ اینڈ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ ڈکنسن نے بھی لندن میں اماراتی شہریوں پر حملوں کے بعد کسی قسم اقتصادی مضمرات کو مسترد کردیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کمبرلینڈ ہوٹل میں حملہ لندن کے لیے ایک بالکل غیر معمولی اور الگ تھلگ واقعہ ہے کیونکہ یہ دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں سے ایک ہے۔اب اس واقعہ کے باوجود ہم نے تو ویسٹ اینڈ میں سعودی عرب اور امارات سے آنے والے خریداروں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتے دیکھا ہے۔

دوسری جانب پراپرٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انھوں نے بھی خلیجی شہریوں کی جانب سے لندن میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں کوئی کمی نہیں دیکھی ہے اور برسرزمین اماراتی شہریوں نے سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے مکانوں کی خرید کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور متحدہ عرب امارات سے لوگوں کے سیاحت کی غرض سے لندن جانے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے اور ان کی تعداد میں نمایاں کیا بالکل بھی کم نہیں ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ العربیہ کے سروے میں یواے ای کے باون فی صد شہریوں نے لندن میں حال ہی میں اماراتی سیاحوں پر دو سنگدلانہ حملوں کے بعد برطانیہ کو سیاحت کے لیے غیر محفوظ ملک قرار دیا تھا۔ان کے برطانیہ سے متعلق اس رویے میں تبدیلی ان دونوں حملوں کے بعد رونما ہوئی ہے حالانکہ متحدہ عرب امارات سے پچاس ہزار سے زیادہ شہری سالانہ سیروسیاحت کے لیے برطانیہ جاتے ہیں۔

العربیہ نیوز اور یو گورنمںٹ کے اس مشترکہ سروے میں 1154 افراد سے سوالات پوچھے گئے تھے۔اس سروے میں حصہ لینے والے ایک تہائی اماراتیوں کا کہنا تھا کہ وہ شاید اب سیروسیاحت کے لیے برطانیہ کا رُخ نہ کریں۔متحدہ عرب امارات میں مقیم 32 فی صد عرب تارکین وطن کا بھی کہنا تھا کہ وہ بھی سیاحت کے لیے برطانیہ نہیں جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں