.

ابو حمزہ المصری کا جوانی میں نائٹ کلب چلانے کا اعتراف

برطانوی بیوی نظریات تبدیل کرنے کا باعث بنیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری نژاد سخت گیر برطانوی عالم دین ابو حمزہ المصری نے پہلی مرتبہ عدالت کے روبرو بیان میں اعتراف کیا ہے کہ وہ جوانی میں برطانیہ میں ایک دوسرے ساجھی کے ساتھ مل کر عریاں ڈانس کا نائٹ کلب چلایا کرتا تھا۔

چھپن سالہ مصطفیٰ کمال مصطفیٰ المعروف ابو حمزہ مصری نے یہ بات امریکی ریاست مین ہٹن کی وفاقی عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہی۔

خیال رہے کہ ابو حمزہ المصری کو القاعدہ اور اسامہ بن لادن کا مقرب خاص سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس کے خلاف غیر ملکی شہریوں کے اغواء، قتل اور دہشت گردی سمیت مجموعی طور پر 16 مختلف مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے بعض مقدمات کی سماعت 17 اپریل سے امریکی عدالتوں میں جاری ہے۔ ابو حمزہ کو القاعدہ کے لیے عطیات جمع کرنے، افغانستان میں طالبان کے لیے کمپیوٹر سینٹر کے قیام اور اہم سفارت کاروں کے اغواء کے مختلف منصوبوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق متشدد مصری نژاد برطانوی عالم دین ابو حمزہ المصری کو گذشتہ روز امریکا کی ایک وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پرالمصری نے دھیمے لہجے مگر قدرے دلچسپ پیرائے میں گفتگو کی۔ عدالت کو بیان دیتے ہوئے اس نے اپنی جوانی کے اوائل ایام میں اپنی مصروفیات کا تذکرہ کیا۔

ابو حمزہ المصری نے کہا کہ میں سنہ 1979ء میں اکیس سال کی عمر میں مصر سے لندن میں اس لیے آیا تاکہ میں مغربی طرز پر اپنی زندگی گذار سکوں، پیسہ کماؤں اور عیش وعشرت کروں۔ آغاز میں میں نے ایک دوسرے دوست کے ساتھ مل کرا یک نائٹ کلب بھی قائم کیا جس میں مرد و زن عریاں ڈانس کرتے تھے۔

اس نے مزید کہا کہ"کسی مرد کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا، پرلے درجے کی بیوقوفی ہے۔ کیوں کہ شوہر کو آج نہیں تو کل یا کسی بھی وقت اپنی بیوی سے محبت ہو سکتی ہے"۔اس کی اس بات پر کمرہ عدالت میں موجود لوگ ہنس دیے۔

ابو حمزہ المصری نے بتایا کہ اس نے برطانیہ میں رہتے ہوئے انجینیئرنگ کی تعلیم شروع کی تو اس کی مطالعے میں نائن الیون میں حملوں کا شکار ہونے والا ورلڈ ٹریڈ سینٹر بھی شامل تھا۔ جب حملوں میں امریکا میں ٹاور زمین بوس ہوئے تو میں نے کارروائی کی تعریف کی تھی۔

اے ایف پی کے مطابق ابو حمزہ المصری نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ لندن سے انجینیرنگ کی ڈگری لینے کے بعد سینڈ ہارسٹ میں ملٹری اکیڈیمی میں بھرتی ہو گیا۔ اسلام کی طرف میلان کے بارے میں ابو حمزہ نے بتایا کہ میری برطانوی اہلیہ اسلام سے قربت کا باعث بنی۔

سنہ 1982ء شادی کے بعد ہم دونوں زیادہ سے زیادہ وقت اکھٹے رہنے کے خواہاں تھے۔ شادی کے بعد میں نے قرآن کریم کا ایک نسخہ بھی منگوایا، سگریٹ نوشی ترک کر دی اور رمضان المبارک کے دوران نائٹ کلبوں کا کام بند کر دیا اس کی جگہ دروس قرآن کا اہتمام شروع کر دیا۔ اسلام کے بارے میں نو کتابیں تصنیف کیں۔

تفتیش کاروں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ابو حمزہ کا کہنا تھا کہ میں نے زندگی میں جو کچھ کیا وہ سب بتا دیا۔ میری عزت کی وجہ سے اگر مجھے مقدمات میں بری کیا جاتا ہے تو میں ایسا نہیں چاہوں گا۔