.

الجزائر: مشتبہ یہودی الاصل وزیر کی تقرری پر تنازع

خاتون وزیر نوریہ کا یہودی خاندان سے تعلق جوڑنا درست نہیں: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی افریقا کے ایک بڑے ملک الجزائر میں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی جانب سے نوریہ بن گبریط رمعون نامی ایک خاتون کو وزارت تعلیم کا قلم دان سونپے جانے پر ملک کے سیاسی، ابلاغی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اس بحث میں عوامی اور سیاسی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ نوریہ بن گبریط کا تعلق ایک یہودی خاندان سے ہے اور صدر بوتفلیقہ نے ایک یہودی نژاد خاتون کو تعلیم جیسے اہم شعبے کی وزارت سونپ رکھی ہے، جبکہ بعض مبصرین اس خیال کی سختی سے تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بن گبریط کا خاندانی پس منظر یہودی نہیں بلکہ اندلسی ہے۔ اسے "یہودی الاصل" قرار دینے والے غلط فہمی کا شکار ہیں۔

خیال رہے کہ نوریہ بن گبریط رمعون نامی خاتون وزیر کا تعلق تلمسان کے علاقے سے ہے۔ یہ علاقہ الجزائر اور مراکش کے درمیان سرحد پر واقع ہے اور یہاں کئی یہودی خاندان بھی آباد ہیں۔

بن گبریط رمعون کو وزارت تعلیم کا قلم دان سونپے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر صدر پر تنقید کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ یہ تنقید اس لیے نہیں کہ ایک خاتون کو وزارت تعلیم کا عہدہ سونپا گیا بلکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایک یہودی الاصل خاتون کو وزارت تعلیم سونپ رکھی ہے۔

الجزائر میں صدر مملکت اور کسی وزیر پر تنقید کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ سنہ 1991ء میں سابق صدر شاذلی بن جدید کو اس وقت سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے ایک یہودی نژاد غازی حیدوسی نامی ایک سیاست دان کو وزیر اقتصادیات مقرر کیا تھا۔

بن گبریط کی تقرری کی سب سے زیادہ مخالفت مذہبی جماعتوں کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت "تحریک النہضہ" اور سلفیوں کی نمائندہ "الصحوہ" کا کہنا ہے کہ صدر نے بغیر چھان بین کے ایک یہودی نژاد خاتون کو وزارت تعلیم کا قلم دان سونپ رکھا ہے۔ صدر کے اس فیصلے سے پوری قوم کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ لہٰذ گبریط رمعون کو فوری طور پر اس کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

بن گبریط رمعون خود اس ساری تنقید اور مخالفت پر خاموش ہے۔ اس کی جانب سے اپنے یہودی پس منظر کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی تاہم بعض مبصرین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بن گبریط یہودی خاندان کا لقب نہیں بلکہ اس کا تعلق اندلس سے ہے۔

مقامی صحافی اور تجزیہ نگار فوزی سعد اللہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خاتون وزیر کی مخالفت کرنے والوں کو "بن گیریط" کے نام سے غلط فہمی ہوئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ یہودی نام ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں۔ میری تحقیقات کے مطابق یہ اندلسی نام ہے کیونکہ نوریہ بن گیریط کا خاندان سنہ 1492ء میں اسپین میں سقوط غرناطہ کے بعد فرار ہو کر الجزائر منتقل ہوا تھا

فوزی سعداللہ نے کہا کہ "بن گبریط" دراصل ایک لقب ہے جو کئی دوسرے مشاہیر کے ناموں کا بھی حصہ ہے۔ مثلا قدور بن گبریط نامی ایک اہم شخصیت سے ہر الجزائری واقف ہے جو ملک میں مساجد کی تعمیر میں پیش پیش رہے ہیں۔ کیا ہم انہیں بھی یہودی قرار دیں گے۔ بن گبریط اور رمعون یہ دونوں ایسے نام ہیں جو الجزائر کی مقامی نہیں لیکن سر زمین اندلس اور غرناطہ سے یہاں منتقل ہوئے ہیں۔