.

ایران اور شمالی کوریا بدمعاش ریاستیں ہیں: بنجمن نیتن یاہو

ایران اور شمالی کوریا پر جوہری شراکت داری کا بھی الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران پر الزام عاید کیا ہے کہ ایران شمالی کوریا کے ساتھ جوہری ٹیکنالوجی شئِر کر رہا ہے۔ یہ بات اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے دورہ جاپان کے دوران کہی ہے۔ واضح رہے شمالی کوریا کا جوہری اور میزائل پروگرام جاپان کیلیے سخت تشویش کا باعث ہے اور اسے جاپان اپنے لیے براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔

جاپان میں نیتن یاہو کی وزیر اعظم جاپان شنزو ایبے اور وزیر خارجہ فمیو کیشیدا سے اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد ان سے پوچھا گیا تھا کہ ''کیا شمالی کوریا میزائل سازی کیلیے جوہری ٹیکنالوجی ایران سے لے رہا ہے؟'' اس کے جواب میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ''جی ہاں، اصل معاملہ ہی یہی ہے۔ ''ان کا یہ بھی کہنا تھا ''ایران کے پاس جو بھی ٹیکنالوجی ہو گی وہ شمالی کوریا کے ساتھ شئیر کرے گا۔ ''

دوسری جانب شمالی کوریا ہے کہ اس نے اپنے اوپر لگائی گئی تمام تر پابندیوں کے باوجود اپنے چوتھے جوہری دھماکے کی تیاری میں ہے۔ اس کا جوہری اور بلیسٹک میزائل پروگرام جاپان کیلیے بطور خاص فکرمندی کا حوالہ ہے۔

جاپان نے اس صورتحال کے باوجود ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو اہمیت دینے کی حکمت عملی شروع کی ہے۔ نیتن یاہو نے جاپانی وزیرخارجہ کیشیدا سے اپنی ملاقات کے دوران ایران اور شمالی کوریا دونوں بدمعاش ریاستیں کہہ کر یاد کیا۔ بنیمن نیتن یاہو کا کہنا تھا '' ہم ایک بدمعاش ریاست کے خود کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کرنے پر خطرہ محسوس کرتے ہیں جیسا کہ آپ کے ملک کیلیے شمالی کوریا ہے۔''

اسرائیلی وزیر اعظم نے اس امر پر افسوس ظاہر کیا کہ ایران مسلسل دنیا کو دھوکہ دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا '' ایران کا آیت اللہ قابل بھروسہ نہیں ہے۔ '' یاہو نے مزید کہا '' اگر عالمی برادری جوہری دہشت گردی سے محفوظ رہنا چاہتی ہے تو عالمی برادری کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔''

تاہم جاپانی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ چھ بڑی طاقتوں کے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا اس سلسلے میں اسرائیل کو بھی عالمی برادری کا ساتھ دینا چاہیے۔ خیال رہے ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کیلیے ہے۔