سوڈان: قائد حزب اختلاف کی گرفتاری کے خلاف احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں قریباً چھے سو افراد نے حزب اختلاف کے رہ نما اور سابق وزیراعظم صادق المہدی کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

امہ پارٹی کے سربراہ کی حراست کے خلاف ان کے حامیوں نے خرطوم کے جڑواں شہر عمودالرحمان میں امام عبدالرحمان مسجد کے باہر نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس نکالا۔اس موقع پر سکیورٹی فورسز اور پولیس کے بیسیوں اہلکار موجود تھے۔مظاہرین نے امہ پارٹی کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور انھوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

وہ کہہ رہے تھے کہ ''ولنوں کے ساتھ کوئی ڈائِیلاگ نہیں ہوں گے۔صادق المہدی عوام کی آواز ہیں اور کامیابی تک انقلاب جاری رہے گا''۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ صادق المہدی کی رہائی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

سابق سوڈانی وزیراعظم صادق المہدی کو دوہفتے قبل صدر عمر حسن البشیر کی حکومت نے گرفتار کر لیا تھا۔ان سے پراسیکیوٹرز نے شورش زدہ مغربی علاقے دارفور میں سکیورٹی فورسز پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عورتوں کی عصمت ریزی کے الزامات عاید کرنے پر تحقیقات کی ہے۔

سوڈان کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی سروس (این آئی ایس ایس) نے صادق المہدی کے خلاف ایک فوجداری درخواست دائر کررکھی ہے اور ان کے خلاف یہ قانونی چارہ جوئی ان کے سریع الحرکت امدادی فورس کے بارے میں الزامی بیانات کے ردعمل میں کی جارہی ہے۔

سوڈانی اخبارات کی رپورٹ کے مطابق این آئی ایس ایس کو سریع الحرکت فورس پر اختیار حاصل ہے۔اس نے سابق وزیراعظم پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے اس فورس کے خلاف بیان بازی کرکے اس کا تشخص داغدار کیا ہے، ریاست کا وقار داؤ پر لگایا ہے ، امن عامہ کو نقصان پہنچانے اور عالمی برادری کو سوڈان کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔

سریع الحرکت فورس کے کمانڈروں نے خرطوم میں ایک نیوزکانفرنس میں دارفور میں لوٹ مار اور خواتین کی عصمت ریزی یا دوسرے جرائم کے ارتکاب سے متعلق الزامات کی تردید کی تھی۔یونٹ کے فیلڈ کمانڈر محمد حمدان دالجو کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ کا پلندا ہیں۔

واضح رہے کہ عمر حسن البشیر 1989ء میں وزیراعظم صادق المہدی کی حکومت ہی کا تختہ الٹ کر برسراقتدار آئے تھے۔ان کی گرفتاری کے بعد اُمہ پارٹی نے صدر عمرالبشیر کے ساتھ جاری ''قومی مذاکرات'' کا بائیکاٹ کردیا تھا۔سوڈانی صدر اور وزیردفاع عبدالرحیم محمد حسین ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت کو دارفور میں جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے الزامات میں مطلوب ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں