سوڈان: مرتد خاتون کو سزائے موت کا حکم
مرتد خاتون مہلت کے باوجود اسلام کی طرف نہ پلٹی تھی
سوڈان کی ایک عدالت نے اسلام سے مرتد ہو کر عیسائی ہونے والی خاتون کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے خاتون کو اسلام کی طرف رجوع کرنے کیلیے تین دن تک مہلت دی لیکن اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھانے پر اسے سزائے موت سنا دی گئی ہے۔
واضح رہے اسلام میں ارتداد کی سزا شرعی طور پر موت مقرر کی گئی ہے۔ سوڈانی عدالت نے یہ فیصلہ اسی رو سے کیا ہے۔ اسلام کی رو سے اسلام قبول کرانے کیلیے کوئی جبر نہیں ہے لیکن جب ایک عاقل بالغ شخص اسلام کو اختیار کر لیتا ہے تو پھر اس پر اسلامی حدود کا اطلاق ہونا جبر یا اکراہ کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔
سوڈانی جج عباس محمد الخلیفہ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ''ہم نے آپ کو سوچنے سمجھنے اور اسلام کی طرف پلٹ آنے کیلیے تین دن کا وقت دیا لیکن آپ نے رجوع نہ کیا، اس لیے آپ کو موت واقع ہونے تک پھانسی پر لٹکانے کا حکم دیا جاتا ہے۔''
جج نے خاتون کو اس کے اسلامی نام اضراف الہادی محمد عبداللہ کے نام سے ہی مخاطب کیا۔ جبکہ خاتون نے عیسائیت اختیار کرنے کے بعد اپنا نام مریم یحیی ابراہیم اسحاق رکھ لیا تھا۔ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس سزا پر عمل در آمد کب کیا جائےگا یا سزا کی مستحق قرار پانے والی خاتون کو اپیل کرنے کا حق ہو گا۔
-
توہینِ رسالت کی پاداش میں مسیحی ملزم کو سزائے موت
سزا لاہور کے ایک ایڈیشنل سیشن جج نے سنائی
پاكستان -
ایران میں دو خواتین سمیت گیارہ ملزمان کو اجتماعی پھانسی
سزائے موت پرعمل درآمد ارومیہ سینٹرل جیل میں کیا گیا
بين الاقوامى -
کویتی عورت کے خلاف ملازمہ کے قتل پر سزائے موت کا فیصلہ برقرار
قتل کے جرم میں بیوی کی معاونت پر معذور خاوند کو 10 سال قید کا حکم
بين الاقوامى