ایران ،سوڈان کو پرزوں کی فروخت، امریکا کا فوکر پر جرمانہ

ڈچ طیارہ ساز کمپنی نے امریکی پابندیوں کے برعکس فاضل پرزے برآمد کیے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکا کے محکمہ خزانہ نے ڈچ ایوی ایشن فرم فوکر سروسز کو ایران اور سوڈان کو طیاروں کے فاضل پرزے فروخت کرنے پر دو کروڑ دس لاکھ ڈالرز جرمانہ عاید کردیا ہے۔

امریکا نے ان دونوں ممالک پر اقتصادی پابندیاں عاید کررکھی ہیں اور ان سے کاروباری روابط رکھنے والے اداروں اور افراد پر امریکی محکمہ خزانہ جرمانہ یا پابندیاں عاید کرسکتا ہے۔

محکمہ خزانہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کا فوکر سے ایک مفاہمتی سمجھوتا طے پا گیا ہے جس کے تحت اس کمپنی نے مذکورہ پابندیوں کی خلاف ورزی کی ذمے داری قبول کی ہے اور اس پر اس کی پاداش میں پانچ کروڑ دس لاکھ ڈالرز تک جرمانہ عاید کیا جاسکتا تھا۔

اس کیس میں فوکر نے 2005ء سے 2010ء کے درمیان پابندیوں کی 1150 خلاف ورزیاں کی تھیں اور اس نے ایران اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے گاہکوں کو بالواسطہ طیاروں کے فاضل پرزے برآمد کیے تھے۔

یہ تمام پرزے امریکی ساختہ تھے یا فوکر نے انھیں امریکا میں رکھا ہوا تھا۔کمپنی کو ان پرزوں کو ایران یا سوڈان کو بھیجنے سے پہلے امریکی حکومت سے ایک خاص لائسنس حاصل کرنا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تھا۔

محکمہ خزانہ کے دفتر برائے خارجہ اثاثے کنٹرول کے ڈائریکٹر ایڈم زوبن نے بیان میں کہا ہے کہ ''فوکر نے غیر قانونی طور پر ان خاص ممالک کو طیاروں کے فاضل پرزے برآمد کرکے امریکا کے پابندیوں کے قانون کی کھلی خلاف ورزی کی ہے اور اس غیر قانونی سرگرمی سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی۔

محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق مفاہمتی سمجھوتے کے تحت فوکر نے فوجداری الزامات پر قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے اپنے اور اپنے ملازمین کے مجرمانہ فعل کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں