جنگ کے دوران جنسی زیادتی کا سبب طاقت ہے: انجلینا جولی
این جی اوز اور حکومتوں کے درمیان تعاون نہ ہونے کے برابر ہے
دنیا کی معروف اداکارہ اور پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی سفیر انجلینا جولی نے اس امر پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں خواتین کے ساتھ جنسی ظلم و زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومتوں اور این جی اوز کے درمیان تعاون کا ماحول پیدا نہیں ہو سکا ہے۔
ہالی ووڈ سٹار انجلینا جولی نے کہا '' اس وقت دنیا میں بہت ساری این جی اوز مو جود ہیں لیکن ان کا اپنے کام کے سلسلے میں باہم رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے، ان کے درمیان اطلاعات کی شئیرنگ کا کوئی نظام ہے، نہ مشترکہ کام کی منصوبہ بندی کا ماحول ہے۔''
'' العربیہ'' سے بات چیت کرتے ہوئے جولی نے کہا '' لندن میں چار دن تک جاری رہنے والی کانفرنس میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں جنسی زیادتی کے واقعات زیر بحث آئے ہیں، کانفرنس کے آخری روز وزیر خارجہ ولیم ہیگ شریک چئیرمین کے طور پر موجود تھے ، جنہوں نے سفارشات پر عمل درآمد اور آئندہ کے اقدامات پر زور دیا تاکہ خواتین کو ظلم سے بچایا جا سکے۔''
برطانوی وزیر خارجہ نے اس بارے میں '' العربیہ '' سے بات کرتے ہوئے کہا '' مصیبت زدہ خواتین پر جنسی حملے قابل قبول نہیں ہیں۔ ''
برطانوی حکام نے توقع ظاہر کی ہے اس کانفرنس کے عملی نتائج برآمد ہوں گے اور متعلقہ ممالک نہ صرف اپنے ہاں قوانین میں ترامیم کریں گے بلکہ اپنی افواج کی تربیت اور پراسیکیوٹرز کی تربیت کا اس حوالے سے نظام بھی بہتر بنائیں گے۔
کانفرنس کو 15 عرب ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے۔ واضح رہے اس کانفرنس سے ایک متاثرہ خاتون نے بھی خطاب کیا جسے شام میں قید کے دوران جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
جولی نے کہا ''جنگ اور لڑائی کے دوران جنسی زیادتی کا جنسی تلذذ سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ کلی طور پر طاقت اور انتقام کا اظہار ہوتا ہے۔''
-
طالبات کا اغوا: انجلینا جولی، ملالہ اور مشعل اوباما ہم آواز
''ہماری بچیوں کو واپس لایا جائے'' مشعل اوباما کا ٹویٹ پیغام
بين الاقوامى -
انجلینا جولی کی لبنان میں شامی پناہ گزینوں سے ملاقات
منتظمین نے میڈیا اور پاپا رازیوں کو انجلینا سے دور رکھا
بين الاقوامى -
انجلینا جولی کا شام ۔ اردن سرحد پر قائم پناہ گزین کیمپ کا دورہ
"شام کے حالات اکیسویں صدی کا سنگین انسانی المیہ ہے"
مشرق وسطی