فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کریک ڈاؤن میں تیزی
تشدد سے کم عمر فلسطینی لڑکا شہید ہو گیا
مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں اسرائیلی فوج نے نہتے فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کر دیا۔ تشدد کی اس تازہ لہر میں صہیونی فوجیوں نے ایک چودہ سالہ لڑکے محمد دودین کو گولیاں مار کر شہید کر دیا جبکہ مزید 25 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ نو روز قبل مغربی کنارے کے الخلیل شہر سے تین یہودی لڑکوں کی پر اسرار گمشدگی کے بعد اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔
فلسطینی امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے الخلیل میں 'دورا' کے مقام پر گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں میں ایک چودہ سالہ لڑکے کو گولیاں مار دیں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ جسے اسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر راستے ہی میں دم توڑ گیا۔
ادھر صہیونی فوج نے یہودی آباد کاروں کی تلاش میں کریک ڈاؤن کا دائرہ مقبوضہ بیت المقدس تک بڑھا دیا ہے۔ گذشتہ روز بیت المقدس میں بھی سخت کشیدگی رہی۔ اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی شہریوں کے درمیان متعدد مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔ یہ جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے پچاس سال سے کم عمر کے تمام افراد کو مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائی کے لیے جانے سے روکا۔
العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق مقبوضہ فلسطین کے مختلف شہروں سے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے لیے آنےو الے شہریوں کے گرین کارڈز بھی چیک کیے جاتے رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بیت المقدس اور مغربی کنارے کے 200 اہم مقامات کی تلاشی لی۔ گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں میں مزید 25 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پچھلے ایک ہفتے سے جاری کریک ڈاؤن میں اب تک 330 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں 240 افراد اسلامی تحریک مزاحمت"حماس" کے ارکان بتائے جاتے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں حماس کے زیر انتظام فلاحی اداروں کے دفاتر پر بھی چھاپے مارے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گذشتہ روز ایسے 30 اداروں اور تنظیموں کے مراکز پر چھاپے مارے گئے جن پر مبینہ طور پر حماس کی معاونت کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔
ادھر غزہ کی پٹی میں اسرائیل نے مزاحمت کاروں کے تین مراکز کو میزائل حملوں سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔