.

ایران میں 'امر بالمعروف ونہی عن المنکر' کا قانون منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] نے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے دو الگ الگ قوانین کی منظوری دیتے ہوئے اسے فرد اور معاشرے کے بعد ریاست کی بھی ذمہ داری قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مجلس شوریٰ کے ایک حالیہ اجلاس میں 209 ارکان موجود تھے جن میں سے 142 نے "امر بالمعروف ونہی عن المنکر" قانون کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔

قبل ازیں پارلیمنٹ کے 195 ارکان نے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کو ایک انتباہی مکتوب ارسال کیا تھا جس میں ان سے ملک میں تیزی سے پھیلتی بے پردگی اور حجاب سے متعلق خواتین کی بے اعتنائی پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے صدر سے خواتین کو حجاب کا پابند بنانے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ بھی کیا۔

شدت پسند حلقوں کے زیر اثر ایرانی ذرائع ابلاغ بھی خواتین کے سماجی رویوں میں آنے والی جدت سے سخت نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ میڈیا میں پردے کی پابندی نہ کرنے والی خواتین کو سخت تنقید کا سامنا رہتا ہے۔ حال ہی میں ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل کے ایک سلسلہ وار پروگرام میں خواتین کو پردے کی پابندی کی تلقین کے ساتھ بے پردگی کے مضمرات پر خبردار کیا۔

خواتین کو پردے کا پابند بنانے کے لیے سماجی حلقوں کی جانب سے مہمات بھی چلائی جاتی ہیں۔ اسی ضمن میں حال ہی میں ایران کی بعض شاہراؤں پر لگے بڑے بڑے بینروں اور ہورڈنگ بورڈز پر محجب اور غیر محجب خواتین میں فرق واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

تصاویر میں محجب خواتین ڈھانپی ہوئی سویٹس سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دی گئی ہیں جبکہ بے پردہ عورتوں کو کھلے تھالوں میں رکھی مٹھائیاں کھاتے دکھایا ہے جن پر مکھیوں اور کیڑے مکوڑوں کا بھی ھجوم ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے سرکاری قانون کے آرٹیکل آٹھ میں "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" تمام شہریوں کی اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ بعض شرائط سے مشروط اس قانون کے تحت شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ معاشرے میں نیکی کو عام کرنے اور برائی کا خاتمہ اپنی مذہنی ذمہ داری سمجھ کر ادا کریں۔

ایران میں کچھ عرصےسے مغربی طرز زندگی اور مغربی تہذیب کے رحجانات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن ساتھ ہی قدامت پسند حلقوں کی طرف سے اس کی مخالفت میں بھی شدت دیکھی جا رہی ہے۔

حال ہی میں ایرانی صدر حسن روحانی نے طاقت کے ذریعے خواتین کو پردے کا پابند بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے شہریوں کی ذاتی زندگی میں عدم مداخلت پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں کُچھ لوگ آج بھی پتھر کے دور میں رہ رہے ہیں۔