.

ایران میں جماعت سازی سپریم لیڈر کی اطاعت سے مشروط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] نے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ ملک میں کوئی بھی جماعت اس وقت تک قائم نہیں کی جا سکے گی جب تک کے اس بانیان مرشد اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کی غیر مشروط اطاعت کی عملا پابندی کا اعلان نہیں کریں گے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی"مہر" نے بتایا ہے کہ مجلس شوریٰ میں پچھلے کئی روز سے ایک مسودہ قانون پر بحث جاری تھی۔ اس مسودہ قانون میں تنظیم سازی اور سیاسی جماعتوں کے قیام کے طریقہ کار پر مفصل بحث کی گئی۔ نئے آئینی بل میں کہا گہا گیا ہے کہ ایران میں نئی جماعت کے قیام کے خواہاں افراد کو چار اہم شرائط پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔

ان میں پہلی اور اہم شرط یہ کہ مجوزہ تنظیم کے بانیان اور دیگر وابستگان کو ایرانی ولایت فقیہ کے نظام اور مرشد اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کی مکمل اطاعت کرنا ہو گی۔ دیگر شرائط میں تنظیم کے بانی ارکان کا ایرانی ہونا، کم سے کم عمر 18 سال ہونا اور اس امرکو یقینی بنانا کہ ان کے خلاف ایران کی کسی عدالت میں کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا ہے۔

مسودہ قانون کی حمایت میں 60 ارکان اور مخالفت میں صرف 10 نے ووٹ ڈالے جبکہ 12 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ مخالفت کرنے والے ارکان کا تعلق اصلاح پسند گروپوں سے بتایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے موجودہ ولایتِ فقیہ کے نظام میں سپریم لیڈر کو وسیع تر دستوری اختیارات حاصل ہیں۔ عدلیہ کے چیف جسٹس صاحبان، مسلح افواج کے سربراہان اور سرکاری ریڈیو و ٹیلی ویژن کارپوریشن کے چیئرمین کے عزل و نصب کے تمام اختیارات سپریم لیڈر کے پاس ہیں۔