.

حکومت مخالف پوسٹ پر ایرانی نوجوانوں کو سزا

آٹھ نوجوانوں کو مجموعی طور پر 127 سال کی سزا سنائی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایک انقلابی عدالت نے فیس بک پر حکومت مخالف پوسٹ کرنے پر آٹھ نوجوانوں کو مجموعی طور پر 127 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

ایرانی میڈیا نے ان نوجوانوں کے نام کا ذکر کئے بغیر بتایا گیا تھا کہ ان نوجوانوں کو قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے، حکومت مخالف پروپیگنڈا اور مذہبی اقدار اور ایرانی رہنمائوں کی بے عزتی کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔

رپورٹ میں یہ ضرور بتایا گیا تھا کہ سزا یافتہ نوجوانوں کا تعلق تہران، یزد، شیراز، آبادان اور کرمان کے علاقوں سے تھا اور ان سب کو 11 سے 21 سال کے درمیان مدت کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان نوجوانوں کو اس سزا کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔

ایران میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی جن میں ٹویٹر اور فیس بک شامل ہیں، روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جاتی ہے تاکہ ان میں سے حکومت اور اسلام مخالف ایجنڈے کی نشاندہی کی نشاندہی کی جا سکے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سماجی، ثقافتی اور میڈیا ایشوز پر زیادہ برداشت کو عام کریں گے اور اسی وعدے کی مدد سے وہ گذشتہ برس کے انتخابات میں قدامت پسندوں کو شکست دے کر اقتدار کی مسند پر پہنچے تھے۔ مگر اس معاملے میں ابھی تک ان کی کوئی بھی کوشش کارگر نہیں ہوئی ہے۔

ایرانی اپوزیشن کی ویب سائٹ کے مطابق اس سے پہلے ماہ مئی میں آٹھ لوگوں کو فیس بک پر حکومت مخالف پروپیگنڈا سمیت مختلف جرائم کی پاداش میں سات سے 20 سال کی قید سنائی گئی تھی۔