"امریکی مسافر طیارے جنگ زدہ علاقوں پر پرواز نہ کریں"

ملائیشیا طیارہ حادثے نے عالمی فضائی سروس کے روٹس تبدیل کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا اور بعض دوسرے ملکوں نے جنگ سے متاثرہ خطوں اور داخلی شورش کے شکار علاقوں کی فضاء سے اپنی ہوائی کمپنیوں کے طیاروں کو گذارنے سے منع کر دیا ہے۔ یہ اقدام دو ہفتے قبل یوکرین میں ملائیشیا کے ایک مسافر طیارے کے حادثے کے بعد کیا جا رہا ہے۔ اس حادثے کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسے مشرقی یوکرین میں روس مخالف باغیوں نے زمین سے فضاء میں مار کرنے والے ایک راکٹ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی فضائی کمپنی نے کینیڈا کے شہر مونیٹریال میں یوکرین میں ملائیشین طیارہ حادثے کے بعد ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں مسافر اور کارگو طیاروں کے "روٹس" تبدیل کرنے پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر فضائی کمپنیوں کو یہ تجویز دی گئی کہ وہ مسافروں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے بجائے ایسے فضائی راستوں کا انتخاب کریں جو نسبتا زیادہ محفوظ ہوں۔ جنگ سے متاثرہ علاقوں کی فضاء سے گذرنے والے مسافر طیارے کسی بھی وقت کسی حملے کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

ٹی وی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے اپنی فضائی کمپنیون کے ہوائی جہازوں کے روٹس تبدیل کرنے کے احکامات کے ساتھ ساتھ بعض ملکوں میں مسافر طیاروں کی کم سے کم بلندی کی ایک حد بھی مقرر کی ہے۔

مثال کے طور پر عراق، لیبیا اور صومالیہ میں فضاء کے استعمال سے منع تو نہیں گیا مسافر طیاروں کے لیے کم سے کم 20 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ ایتھوپیا کے شمالی عرض بلد 12 میں مال بردار طیاروں کو اترنے سے منع کیا گیا ہے۔ طیارے کینیا کے "مانڈیرا" ہوائی اڈے کو بھی استعمال نہیں کر سکیں گے۔

اس کے علاوہ شمالی کوریا، شام، ایران، افغانستان، کینیا، جمہوریہ کانگو، مصر کے جزیرہ نما سیناء، مالی اور یمن میں بھی مسافر بردار فضائی کمپنیوں کو نہایت محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں