.

لاپتا اسرائیلی فوجی کارروائی میں ہلاک ہو چکا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے اپنے لاپتا فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس کی طرف سے بنائی گئی سُرنگیں تباہ کرنے کے بعد بھی غزہ میں فوجی آپریشن جاری رہے گا۔

اسرائیلی حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 23 سالہ فوجی ہادر گولڈِن جمعہ کے روز اسرائیلی فوج اور مسلح فلسطینی گروہ کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں ہلاک ہو گیا تھا۔ تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے آیا انہیں لاپتا فوجی کی باقیات ملی ہیں۔ اس فوجی کے بارے میں پہلےکہا گیا تھا کہ اسے ممکنہ طور پر فلسطینی جنگجوؤں نے اغوا کر لیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق اس خبر کے ساتھ ہی اس ڈراؤنے خواب کا خاتمہ ہو گیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس فوجی کی بازیابی کے لیے حماس کے خلاف اپنے فوجی آپریشن میں مزید سختی لائے گا۔

اتوار کے روز اسرائیلی وزیر دفاع متعدد دیگر حکومت عہدیداروں کے ہمراہ اس فوجی کے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے کفر صبا نامی علاقے پہنچے۔ اس موقع پر سینکڑوں اسرائیلی اس اہل خانہ سے تعزیت کے لیے ان کے گھر کے باہر جمع تھے۔

فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فوجی کی ہلاکت کی تصدیق سے قبل تمام طبّی، مذہبی اور اضافی امور کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ بین الاقوامی ثالثی میں جمعہ کی صبح سے مجوزہ تین روزہ سیز فائر کے دوران حماس کے عسکریت پسندوں نے اس فوجی کو یرغمال بنا لیا۔ ہفتے کے روز حماس نے اس فوجی کے اغوا کی تردید کی تھی۔ دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی حماس پر زور دیا تھا کہ وہ اس فوجی کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل کے لیے کسی فوجی یا شہری کی فلسطینیوں کے ہاتھوں یرغمالی ایک ڈراؤنے خواب کی مانند ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے طویل مدتی اور پیچیدہ مسائل جنم لیتے ہیں۔ واضح رہے کہ سن 2011ء میں ایک اسرائیلی فوجی کی رہائی کے لیے اسرائیل کو ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدی رہا کرنا پڑے تھے۔ اس فوجی کو حماس سے تعلق رکھنے والے مسلح عسکریت پسندوں نے سن 2006ء میں اغوا کیا تھا۔

فوجی آپریشن جاری رہے گا

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس کی طرف سے بنائی گئی سُرنگیں تباہ کرنے کے بعد بھی غزہ میں فوجی آپریشن جاری رہے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہا کہ اگر حماس نے راکٹ حملے جاری رکھے تو اسے ’ناقابل برداشت‘ قیمت ادا کرنا ہو گی۔ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ تبصرہ مصر میں ہونے والے امن مذاکرات میں اسرائیلی نمائندے نہ بھیجنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس پچیس روزہ جنگ میں 17 سو سے زائد فلسطینی شہید اور تریسٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ جنگ بندی کی متعدد کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔