.

ملائیشیا: ‌دہشت گردی کے الزام میں ‌19 افراد گرفتار

عسکریت پسند "داعش" کے طرز پر خلافت کے قیام کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائیشیا کی انسداد دہشت گردی پولیس نے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں کم سے کم 19 عسکریت پسندوں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عراق اور شام میں عسکریت پسندی میں سرگرم تنظیم دولت اسلامی عراق وشام"داعش" کے طرز عمل پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق ملائیشیا کے دہشت گردی خاتمے کے شعبے کے ڈپٹی پولیس چیف ایوب خان میدین نے میڈیا کو بتایا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران پولیس نے ملک میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں انیس مشتبہ عسکریت پسندوں کو حراست میں لیا ہے۔ شدت پسند کارخانوں اور نائٹ کلبوں پر حملوں کی منصو بندی کر رہے تھے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے جانے والے تمام افراد مقامی ہیں۔ تفتیش کے دوران انہوں‌ نے اعتراف کیا کہ وہ داعش کے طرز پر ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ اور سنگاپور سمیت جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں اسلامی خلافت کے قیام کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔ عسکریت پسندوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ حراست میں‌ لیے گئے بیشتر افراد کا تعلق مختلف پیشوں سے ہے۔

یاد رہے کہ ملائیشیا کی اکثریت اعتدال پسند مسلمانوں‌ پر مشتمل ہے، تاہم گذشتہ کچھ چند سالوں ‌سے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں بھی ہوتی رہی ہیں، جس کے بعد ملک میں انتہا پسندی میں اضافے کا خطرہ بھی محسوس کیا جانے لگا ہے۔

القاعدہ کے شدت پسندانہ نظریات سے متاثر الجماعہ الاسلامیہ نے جنوب مشرقی ایشیائی ریاستوں میں ‌کارروائیوں کے لیے ملائیشیا کو اپنا مرکز بنایا تھا۔ سنہ 2002ء میں جنوب مشرقی ایشیائی ریاستوں میں‌ہونے والے بم دھماکوں میں اسی تنظیم کو ملوث قرار دیا گیا تھا۔