غزہ حملہ:ہولوکاسٹ کے متاثرین کی اسرائیل پر تنقید
ارضِ فلسطین پر قبضے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے قتل عام کی مذمت
نازی جرمنوں کے ہاتھو یہود کے مبینہ قتل عام کی مہم ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والے تین سو سے زیادہ افراد اور ان کے لواحقین نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں اور ان میں فلسطینیوں کے قتل عام کی مذمت کی ہے۔
ان افراد اور خاندانوں نے ایک بیان جاری کیا ہے اور اس کو نیویارک ٹائمز میں بائیں بازو کی تنظیم عالمی یہود صہیونیت مخالف نیٹ ورک نے اشتہار کے طور پر شائع کیا ہے۔ یہ بیان ہولوکاسٹ میں بچ جانے والے ایک اور یہودی ایلی ویزل کے اشتہار کے جواب میں شائع کرایا گیا ہے۔اس نے فلسطینی جماعت حماس کا نازیوں سے موازنہ کیا تھا۔
اس اشتہار پر ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والے چالیس افراد اور دیگر خاندانوں کے دوسوستاسی لواحقین اور دوسرے رشتے داروں کے دستخط ہیں ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ''نازی جرمنوں کی نسل کشی کی مہم میں زندہ بچ جانے والے یہود کے طور پر ہم غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہیں اور تاریخی ارضِ فلسطین پر قبضے اور اس کو نوآبادیانے کی بھی مذمت کرتے ہیں''۔
انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے نہتے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کے باوجود اسی قسم کا لب ولہجہ اختیار کررکھا ہے۔انھوں نے بھی اتوار کو نیوزکانفرنس کے دوران ''حماس داعش ہے ۔داعش حماس ہے'' کے نعرے بلند کردیے تھے اور بعد میں ٹویٹر پر بھی یہی تحریر پوسٹ کی تھی اور اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں بھی ''حماس داعش ہے اور داعش حماس ہے'' کی مالا جپتے رہے تھے۔