.

طرابلس: امریکی سفارت خانہ اسلامی ملیشیا کی تحویل میں

ڈان آف لیبیا نامی گروپ کا ایک سال پہلے کنٹرول سنبھالنے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں اسلامی عسکریت پسندوں کی ایک اتحادی ملیشیا نے دعوی کیا ہے کہ اس نے دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے کو ایک ماہ سے تحفظ فراہم کیا ہے، اسی دوران امریکی سفارت کاروں اور اہلکاروں کو جاری خانہ جنگی کے باعث سفارت خانے سے بحفاظت نکالنا ممکن ہوا۔

عالمی خبر رساں ادارے سے وابستہ میڈیا ٹیم نے طرابلس میں قائم امریکی سفارت خانے کی عمارت کا دورہ کیا۔ اس ٹیم کو ڈان آف لیبیا کے نام سے خود کو متعارف کرانے والے گروپ نے دعوت دی تھی۔ ڈان آف لیبیا اسلامی عسکریت پسند ملیشیاوں کی سر پرست مانا جاتا ہے۔

اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر دکھائی گئی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ملیشیا نے سفارت خانے پر قبضہ کر رکھا گیا ہے۔

سفارت خانے کی عمارت سے متعلق ویڈیو میں کچھ لوگوں کو سوَمنگ پول میں کھیلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سفارت خانے کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور عمارت شکستگی کا شکار ہے البتہ عمارت نصب کردہ حساس آلات ابھی بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

اس موقع پر ڈان آف لیبیا کے ایک کمانڈر نے بتایا ان کا گروپ ایک سال پہلے اس عمارت کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے داخل ہوا تھا۔ واضح رہے اسی ملیشیا نے 23 اگست کو طرابلس کے بین الاقوامی ائیر پورٹ پر قبضے کا اعلان کیا تھا ۔

دریں اثناء لیبیا میں موجود امریکی سفیر نے کہا ہے کہ سفارت خانہ محفوظ بنایا گیا ہے اور اسے تباہ نہیں کیا جا سکا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے میری معلومات اور دستیاب تصاویر کے مطابق سفارت خانے کو محفوظ بنا لیا گیا ہے۔ واضح لیبیا کے لیے امریکی سفیر ان دنوں مالٹا میں مقیم ہیں۔