.

طرابلس کے اہم سرکاری دفاتر پر اسلامی ملیشیا کا قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں عسکریت پسندوں کی بڑھتی کارروائیوں کے بعد عبوری حکومت دارالحکومت طرابلس سے نکل گئی ہے اور شہر میں اہم حکومتی مراکز اور سرکاری دفاتر پر جنگجوئوں نے قبضہ جما رکھا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ طرابلس میں موجود حکومتی دفاتر پر عسکریت پسند گروپوں کے قبضے کے بعد حکومتی سرگرمیاں ملک کے مشرقی علاقے میں منتقل کر دی گئی ہیں۔ شدت پسندوں کی جانب سے قتل کی دھمکیوں کے بعد وزراء اور سرکاری ملازمین کو طرابلس جانے سے روک دیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین اور وزراء کا دارالحکومت میں موجود پانے دفاتر میں جانا خطرے سے خالی نہیں کیونکہ عسکریت پسند انہیں اغواء یا قتل کر سکتے ہیں۔

بیان کے مطابق مسلح گروپوں نے دارالحکومت کے دفاتر میں کام کرنے والے کارکنوں کو دھمکیوں کے ساتھ ان میں سے بعض کے گھر بھی نذر آتش کر دیے ہیں۔

حال ہی میں عبوری وزیر اعظم عبداللہ الثنی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں بتایا تھا کہ طرابلس میں جنگجوئوں نے ان کی رہائش گاہ میں لوٹ مار کے بعد اسے نذر آتش کر دیا ہے۔

انہوں نے طرابلس کے ہوائی اڈے پر قابض تنظیم 'الفجر لیبیا' پر لوٹ مار اور گھر کو نذر آتش کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں‌ نے اعتراف کیا تھا کہ دارالحکومت میں سیکیورٹی کی صورت حال نہایت مخدوش ہے اور سرکاری دفاتر کو خطرات لاحق ہیں۔