.

یمن: حوثیوں نے قومی حکومت کی تجویز مسترد کردی

صدر ہادی نے ایندھن پر زرتلافی ختم کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حکومت کے خلاف مسلح تحریک برپا کرنے والے حوثی باغیوں نے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی جانب سے بحران کے حل کے لیے قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کی تجویزمسترد کردی ہے۔

یمنی صدر نے اپنی کابینہ کو برطرف کردیا ہے اور تمام گروپوں پر مشتمل قومی اتحاد کی ایک نئی حکومت کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔انھوں نے حوثی باغیوں کی مخالفت کے بعد ایندھن پر دیے جانے زرتلافی کو ختم کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

یمن کے تین سرکاری عہدے داروں کا کہنا ہے کہ صدر ہادی ایک ہفتے کے اندر نیا وزیراعظم نامزد کریں گے۔انھوں نے بتایا ہے کہ صدر منصور ہادی نے منگل کو سبکدوش حکومت اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ایک اجلاس میں قومی حکومت کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم حوثی باغیوں نے صدر ہادی کی جانب سے اعلان کردہ نئے اقدامات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ان کی کمیونٹی کے مطالبات کو پورا نہیں کرتے ہیں۔ حوثی باغیوں کے سربراہ عبدالمالک الحوثی نے گذشتہ روز حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا اور دارالحکومت صنعا میں جاری احتجاجی مظاہرے کو وسعت دینے کا اعلان کیا تھا۔

حوثی باغی اہل تشیع کے زیدی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ گذشتہ قریباً ایک عشرے سے شمالی یمن میں حوثیوں کو حقوق دلانے کے نام پرمسلح جدوجہد کررہے ہیں۔وہ گذشتہ دوہفتوں سے صنعا کے نواحی علاقوں میں مظاہرے کررہے ہیں اور حکومت سے مستعفی ہونے اور تیل پر دیاجانے والا زرتلافی بحال کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔