یمن: مظاہرین پر اشک آور گیس کی شیلنگ
حوثی باغیوں نے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ کو بند کردیا
یمنی پولیس نے دارالحکومت صنعا میں حوثی شیعہ باغیوں کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔
حوثی باغی گذشتہ تین ہفتوں سے صنعا کے نواح میں حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور انھوں نےاپنی اس مہم کو وسعت دیتے ہوئے شہر سے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ کو بند کردیا ہے۔مظاہرین نے وزارت داخلہ کے نزدیک شاہراہ پر دھرنا دے رکھا ہے۔ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا ہے اور ان پر واٹرکینن سے پانی پھینکا ہے۔
حکام نے اس کارروائی سے پہلے شیعہ باغیوں کو علاقے کو خالی کرنے کے لیے الٹی میٹم دیا تھا۔جب انھوں نے اس پر کوئی کان نہیں دھرے تو انھیں منتشر کرنے کے لیے یمنی پولیس نے کارروائی کی ہے۔
حوثی باغی حکومت پر بدعنوانیوں کے الزامات عاید کررہے ہیں ،اس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں اور انھوں نے صدر عبد ربہ ہادی منصور کی جانب سے نئے وزیراعظم کی نامزدگی کی پیش کش اور ایندھن پر دیے جانے والے زر تلافی کی بحالی کے فیصلے کو بھی مسترد کردیا ہے۔
حوثی باغیوں نے اتوار کو صنعا شہر سے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ پر نئے خیمے لگا دیے ہیں،اس شاہراہ کو سیمنٹ کے بلاک لگا کر بند کردیا ہے اور انھوں نے بجلی اور ٹیلی مواصلات کی وزارتوں کی جانب جانے والے راستے کو بھی مسدود کردیا ہے۔انھوں نے اپنی کلائیوں اور ماتھوں پر زرد رنگ کی پٹیاں باندھ رکھی ہیں۔اس طرح وہ حکام کو خبردار کررہے ہیں کہ وہ آگے نہ بڑھیں۔
مظاہرین نے شامی صدر بشارالاسد ،لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور حوثی باغیوں کے سربراہ عبدالمالک حوثی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔وہ یہ بھی کہ رہے تھے کہ وہ اخوان المسلمون کی حکومت کے خاتمے تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ یمنی حکومت ایک سے زیادہ مرتبہ ایران پر اپنےملک کے داخلی امور میں مداخلت کا الزام عاید کرچکی ہے۔یمنی صدر منصور ہادی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں ایران پر زوردیا ہے کہ وہ ان کے ملک کے حوالے سے معقولیت اختیار کرے۔
یمنی ایوان صدر کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے اپنے مطالبات کی فہرست حکومت کو پیش کردی ہے۔اس میں انھوں نے کرپشن کے خاتمے ،پبلک پراسیکیوشن ،احتساب پینل ،قومی سکیورٹی سروسز اور انٹیلی جنس میں زیادہ کردار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے یمنی صدر سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئے وزیراعظم اور دفاع ،داخلہ ،خارجہ اور خزانے کے وزراء کی نامزدگی سے قبل ان سے مشاورت کریں۔صدارتی اقدام کے تحت صدر منصور ہادی بہ ذات خود ان چاروں وزراء کو نامزد کریں گے۔
-
یمن: حوثیوں نے قومی حکومت کی تجویز مسترد کردی
صدر ہادی نے ایندھن پر زرتلافی ختم کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا
بين الاقوامى -
خطے کا ایک ملک یمن کو آگ میں دھکیل رہا ہے: ھادی
یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے کہا ہے کہ خطے کا ایک ملک سازش کے تحت ان کے صنعا ...
بين الاقوامى -
حوثیوں نے یمن میں سول نافرمانی کی دھمکی دے دی
یمن میں حکومت کے خلاف بہ طور احتجاج دارالحکومت کا گھیرائو کرنے والے حوثی شیعہ شدت ...
بين الاقوامى -
یمنی حوثیوں سے حکومت مخالف مہم ختم کرنے کا مطالبہ
دوسرے ممالک یمن میں مداخلت سے گریز کریں : یواین سلامتی کونسل
بين الاقوامى -
یمن میں دھماکے، بریگیڈئر جنرل سمیت چار فوجی ہلاک
یمن میں بم دھماکوں کے دو الگ الگ واقعات میں ایک بریگیڈیئر جنرل سمیت کم سے کم چار ...
بين الاقوامى -
حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے صنعاء میں حوثیوں کا مارچ
پاکستان اور یمن کو یکساں صورتِِ حال کا سامنا
بين الاقوامى