خامنہ ای: داعش کے خلاف امریکا سے تعاون مسترد

امریکا عراق اور شام میں وہی کچھ کرنا چاہتا ہے جو وہ پاکستان میں کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے خلاف تعاون کے لیے امریکا کی درخواست مسترد کردی ہے۔

علی خامنہ ای نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''امریکا نے بالکل آغاز میں عراق میں اپنے سفیر کے ذریعے یہ کہلوایا تھا کہ کیا ہم داعش کے خلاف تعاون کرسکتے ہیں۔میں نے اس کا جواب نہیں میں دیا تھا کیونکہ ان کے ہاتھ آلودہ ہیں''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ذاتی طور پر بھی اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے تعاون کی درخواست کی تھی لیکن انھوں نے اس کو مسترد کردیا تھا''۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا پر الزام عاید کیا کہ وہ اب عراق اور شام میں بھی وہی کچھ کرنا چاہتا ہے جو وہ پہلے پاکستان میں کررہا ہے اور وہاں کسی اجازت کے بغیر ہر کہیں بم دھماکے ہورہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین سکئی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی اور ایرانی عہدے داروں نے ویانا میں جون میں جوہری تنازعات پر مذاکرات کے موقع پرعراق میں جاری بحران پر بھی بات چیت کی تھی لیکن امریکا عسکری لحاظ سے ایران کے ساتھ کسی قسم کے رابطے میں نہیں ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ''ہم جوہری تنازعے پر اسی ہفتے نیویارک میں بات چیت کرنے والے ہیں اور اس موقع پر بھی ممکنہ طور پر عراق کے بحران پر بات چیت ہوسکتی ہے۔امریکا نے داعش کے خلاف تمام علاقائی ممالک سے تعاون کی اپیل کی ہے''۔

تاہم امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی گذشتہ ہفتے ایران کے ساتھ تعاون کے امکان کو مسترد کردیا تھا کیونکہ ان کے بہ قول ایران شام اور دوسری جگہوں پر ایک فریق ہے۔امریکا نے سوموار کو پیرس میں ہونے والی داعش مخالف کانفرنس میں شرکت کے لیے ایران اور شام کو دعوت نامہ نہیں بھیجا تھا اور اس میں خطے کے دوسرے تمام ممالک کو مدعو کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں