افریقہ میں دھماکے، الزام مبالغہ آمیز ہے: مصری وکیل

امریکی عدالت کے سامنے پراسکیوٹر نے بھی اتفاق کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی عدالت میں ایک مصری وکیل عدیل عبدالباری نے اپنے خلاف لگائے گئے الزام کو مبالغے پر مبنی قرار دیا کہ وہ 1998 میں مشرقی افریقہ میں امریکی سفارتخانوں پر بم دھماکوں کی سازش کا حصہ تھا۔

عدیل عبدالباری کے خلاف الزام ہے کہ اس نے امریکیوں کے لیے کینیا اور تنزانیہ میں موت کے خطرے کا سامان کیا تھا۔ تاہم امریکی جج لیوس کپلان نے مصری وکیل کی سزا میں کمی کے اس معاملے کو ملتوی کر دیا ہے۔

امریکا کے ڈسٹرکٹ جج نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے مصری وکیل کے موقف سے متفق ہونے کے لیے مزید دلائل چاہتے ہیں اور مصری وکیل کے موقف تاکہ سنگین دہشت گردی کے الزامات میں کمی کی جائے جن کی سزا عمر قید تک ہو سکتی ہے۔

چون سالہ مصری وکیل نے یہ سن کر سر ہلایا اور رو دیا۔ مصری وکیل مین ہٹن کی اس وفاقی امریکی عدالت میں مسلسل روتا رہا۔ اس نے عدالت میں یہ تسلیم کیا کہ اس نے کینیا اور تنزانیہ میں بم دھماکے سے 224 افراد کی ہلاکت کے بعد واقعی القاعدہ کے ایک ترجمان کے طور پر کام کیا تھا۔

اس نے عدالت کو بتایا کہ اس نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے میڈیا سے رابطہ کیا اور بعد ازاں اسامہ بن لادن اور ایمن الزواہری سے بھی رپورٹرز کا رابطہ کرایا۔

عبدالباری نے عدالت میں اپنا لکھا ہوا بیان پڑھتے ہو ئے کہا'' میں نے پیغام کو اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے ذریعے نشر کیا تھا۔''

ایک مرحلے پر اس نے وقفہ کیا اپنا چشمہ اتارا اور اپنے آنسو صاف کیے۔ اس سے پہلے اس نے عدالت کو یہ بھی بتایا تھا کہ وہ ذہنی دباو کا مریض رہ چکا ہے اور اس عارضے کا علاج بھی ہوتا رہا ہے۔

عدالت میں اعتراف جرم کے اس معاملے کی تکمیل پر اسے زیادہ سے زیادہ 25 سال تک جیل میں رہنا پڑے گا۔ اسے جیل میں گزرنے والے پچھلے برسوں کا 14 سال کا اضافی فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔

پراسیکیوٹر نے جج کو بتایا کہ وہ معاہدے کے حوالے سے اختلاف نہیں کریں گے کیونکہ ملزم کا بم دھماکوں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ وکیل صفائی اینڈریو پاٹل نے کہا '' میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ ایک منصفانہ فیصلہ ہے۔''

واضح رہے مصری وکیل عبدالباری کو 2012 میں برطانیہ سے منتقل کیا گیا تھا جہاں اس کے خلاف نومبر میں ابو انس اللیبی کے ساتھ مقدمہ شروع ہوا تھا۔

ابو انس اللیبی کو طرابلس کی ایک گلی سے امریکی کمانڈوز کی کارروائی کے نتیجے میں اٹھایا گیا ۔ اللیبی کا نام ایف بی آئی کی مرتب کردہ انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں