.

برطانوی طیاروں کا داعش پر پہلا فضائی حملہ

تارنیڈو جیٹ کی اہداف پر بمباری کے بعد بحفاظت واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے جنگی طیاروں نے عراق میں پہلی مرتبہ سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

برطانیہ کے وزیردفاع مائیکل فالن نے منگل کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''جنگی طیاروں نے داعش کی بھاری ہتھیاروں کی ایک پوزیشن کو شناخت کے بعد حملے میں نشانہ بنایا ہے اور انھوں نے اسی علاقے میں ایک پک اپ ٹرک پر بھی بمباری کی ہے''۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ''فضائی حملے میں حصہ لینے والے دونوں تارنیڈو جیٹ بحفاظت واپس اپنے ہوائی اڈے پر پہنچ گئے ہیں۔اس پہلے حملے کا جائزہ یہ ہے کہ دونوں اہداف پر حملے کامیاب رہے ہیں''۔

برطانوی پارلیمان نے گذشتہ ہفتے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی منظوری دی تھی لیکن دارالعوام نے شاہی فضائیہ کو خانہ جنگی کا شکار شام میں داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں پر حملوں کی اجازت نہیں دی تھی۔

برطانیہ سے قبل امریکا اور فرانس کے جنگی طیارے عراق کے شمالی علاقوں میں داعش پر تباہ کن بمباری کررہے ہیں جس کے نتیجے میں اس کے جنگجوؤں نے اب اپنے زیر قبضہ علاقوں سے پسپا ہونا شروع کردیا ہے اور شمالی عراق میں کردسکیورٹی فورسز اب اتحادی ممالک کی فضائی قوت کی مدد سے پیش قدمی کررہی ہیں اور چھنے ہوئے علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کررہی ہیں۔

تاہم برطانیہ کی مسلح افواج کے سابق سربراہ جنرل لارڈ رچرڈز نے اگلے روز ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ صرف فضائی حملوں سے دولت اسلامی عراق وشام کو شکست نہیں دی جاسکے گی اور مغربی حکومتیں برّی فوج کو بھیجنے کے امکان کو مسترد کرکے غلطی کررہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس انتہا پسند جنگجو گروپ کے قلمع قمع کے لیے سنہ 2003ء میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے لیے عراق میں برپا کی گئی مہم کی طرح کی فوجی کارروائی درکار ہے۔