.

ایران نے لازمی فوجی سروس کی مدت دو سال کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکومت نے لازمی فوجی سروسز کی مدت 21 ماہ سے بڑھا کر24 ماہ کردی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق مارچ 2015ء سے ہوگا۔

ایرانی میڈیا نے چیفس آف آرمی اسٹاف کے زیرانتظام ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کے نگران جنرل موسیٰ‌ کمالی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ملک میں 18 سال کی عمر کے افراد کی تعداد میں کمی کے باعث لازمی فوجی سروز کی مدت ایک ماہ سے بڑھا کر چوبیس ماہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جنرل کمالی کا کہنا ہے کہ شادی شدہ افراد کے لیے لازمی فوجی سروس میں تین کمی کی گئی ہے جبکہ غیر شادی شدہ اکیس کے بجائے چوبیس ماہ فوج میں خدمات انجام دیں گے۔

جنرل موسیٰ کمال کا مزید کہنا تھا تھا کہ اگر فوج میں بھرتی ہونے کے بعد ڈیوٹی آپریشنل علاقوں میں لگائی جاتی ہے تب بھی فوجی سروس کے مدت میں تین ماہ کی چھوٹ دی جائے گی۔ خیال ہے کہ ایران کی پاکستان، افغانستان اور شمالی عراق سے متصل سرحد کو آپریشنل علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ البتہ بیرون ملک مقیم ایرانی نوجوان چونکہ خود تو فوج کوجوائن نہیں کرسکیں البتہ وہ رقم کے عوض چھوٹ حاصل کرسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس باضابطہ فوج، پاسداران انقلاب اور پاسیج اسلامی ملیشیا میں شامل کل فوجیوں کی تعداد سات لاکھ سے زیادہ ہے۔

ایران میں 77 ملین کی آبادی میں شرح پیدائش میں اضافے کے باوجود نوجوانوں کی تعداد میں قابل لحاظ کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ ایران کو اپنی کم آبادی کی وجہ سے سخت پریشانی کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم لیڈرآیت اللہ خامنائی نے سنہ 2025ء تک آبادی 77 سے بڑھا کر 150 ملین تک لے جانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔