سویڈن کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان
فلسطینی تنازعہ دوریاستی حل سے ہی طے ہوسکتا ہے:وزیراعظم
سویڈن کے وزیراعظم اسٹیفن لوفوین نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے کو دوریاستی حل کے ذریعے ہی طے کیا جاسکتا ہے اور ان کی نئی حکومت ریاستِ فلسطین کو تسلیم کر لے گی۔
انھوں نے یہ اعلان جمعہ کے روز پارلیمان میں اپنے افتتاحی خطاب کے دوران کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دیرینہ تنازعے کو بین الاقوامی قانون کے مطابق مذاکرات کے ذریعے ہی طے کیا جاسکتا ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ ''تنازعے کے دوریاستی حل کے لیے باہمی طور پر ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے اور اس سے ہی پُرامن بقائے باہمی ممکن ہے۔اس لیے سویڈن ریاست فلسطین کو تسلیم کرلے گا''۔
سویڈن کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور گرین پارٹی مل کر مخلوط حکومت تشکیل دے رہی ہیں اور ان کو پارلیمان میں عددی اکثریت حاصل نہیں ہے۔سویڈن میں ان کی حکومت گذشتہ چند عشروں کے بعد کمزور ترین ہوگی۔اس کی پیش رو دائیں بازو کی حکومت نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کا اپنے زیر زنگیں علاقوں پر کنٹرول نہیں ہے۔
یاد رہے کہ 2012ء میں فلسطین کو اقوام متحدہ میں مبصر سے بڑھ کر''غیررکن ریاست'' کا درجہ مل گیا تھا۔ امریکا نے سلامتی کونسل میں فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی مخالفت کی تھی جس کے بعد جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے ذریعے اس کا درجہ بڑھانے کی منظوری دے دی گئی تھی اور اس کو ویٹی کن کی طرح مبصر سے غیر رکن ریاست کا درجہ مل گیا تھا۔
اس سے فلسطینی ریاست کو بطور ریاست جنرل اسمبلی میں کسی مسئلے پر رائے شماری کے دوران ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگیا تھا اور وہ عالمی اداروں میں بھی شمولیت اختیار کرسکتی ہے۔اس کے بعد فلسطین کواقوام متحدہ کے تحت سائنسی ،تعلیمی اور ثقافتی ادارے یونیسکو کی رکنیت مل گئی تھی۔اس کے ردعمل میں امریکا اور اسرائیل نے پیرس میں قائم اس ادارے کے فنڈز روک لیے تھے۔
اب اگرسویڈن فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر لیتا ہے تو یہ عالمی سفارتی محاذ پر فلسطینیوں کی نمایاں کامیابی ہوگی۔سویڈن عالمی امور میں ایک دیانت دار ثالث کار کی شہرت کا حامل ہے۔اس فیصلے کے بعد دوسرے یورپی ممالک بھی ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے غور پر مجبور ہوجائیں گے۔
تاہم سویڈن کے اس اقدام سے اسے صہیونی ریاست اسرائیل ،امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے سخت تنقید اور مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ انھوں نے یہ موقف اختیار کررکھا ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست مذاکراتی عمل کے ذریعے ہی قائم کی جانی چاہیے اور فلسطینی قیادت کو یک طرفہ طور پر اپنی ریاست کو عالمی سطح پر منوانے کے لیے اقدامات نہیں کرنے چاہئیں۔
یورپی یونین کے بعض رکن ممالک ہنگری ،پولینڈ اور سلواکیہ بھی فلسطین کو تسلیم کرچکے ہیں لیکن انھوں نے اٹھائیس رکن ممالک پر مشتمل تنظیم میں شمولیت سے قبل یہ اقدام کیا تھا۔اب اگر سویڈن ریاست فلسطین کو تسلیم کرتا ہے تو وہ یورپی یونین کا پہلا رکن ملک ہوگا۔
فلسطینیوں کا موقف ہے کہ تنازعے کا دو ریاستی حل 1967ء کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہونا چاہیے۔فلسطینی غزہ کی پٹی اور غرب اردن کے علاقوں میں اپنی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔اس ریاست کا دارالحکومت مقبوضہ مشرقی القدس ہوگا جبکہ اسرائیل مقبوضہ القدس کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا چلا آرہا ہے۔اس نے اس مقدس شہر پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور بعد میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔
عالمی برادری نے مقبوضہ القدس پر قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔اسرائیل نے مغربی کنارے میں فلسطینی سرزمین پر یہودی آبادکاروں کے لیے بستیوں کی تعمیر بھی جاری رکھی ہوئی ہے لیکن عالمی برادری یہودی بستیوں کی تعمیر کو بھی غیر قانونی قراردیتی ہے۔