کیا ملٹی وٹامنز روزانہ لینا واقعی ضروری ہیں؟ ماہرِ غذائیت کی واضح رائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بہت سے لوگ تیز رفتار طرزِ زندگی اور روزانہ متوازن غذا پر عمل کرنے میں دشواری کے باعث ملٹی وٹامنز کو ممکنہ غذائی کمی پوری کرنے کا ایک آسان ذریعہ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔

مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا روزانہ ملٹی وٹامن سپلیمنٹ لینا واقعی فائدہ مند ہے یا یہ محض صحت کے حوالے سے ایک جھوٹا اطمینان ہے؟

اس سوال کے جواب میں ویب سائٹ Verywell Health نے امریکی ماہرِ غذائیت این وان پیپر کا حوالہ دیا، جو ٹیکساس کرسچین یونیورسٹی میں غذائی علوم کی پروفیسر ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ بہترین انتخاب یہی ہے کہ وٹامنز اور معدنیات سب سے پہلے قدرتی غذا سے حاصل کیے جائیں،کیونکہ زیادہ تر غذائی اجزا مختلف اقسام کی خوراک میں موجود ہوتے ہیں اور کوئی ایک مخصوص ڈائٹ ایسی نہیں جو اکیلے تمام غذائی ضروریات پوری کر سکے۔تاہم این وان پیپر نے یہ بھی وضاحت کی کہ بہت سے لوگ اپنی روزمرہ خوراک میں مناسب تنوع شامل نہیں کر پاتے، جس کے نتیجے میں بعض ضروری غذائی اجزا کی کمی ہو سکتی ہے، جو مجموعی صحت اور دائمی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اہم ہیں۔

ایسی صورت میں ملٹی وٹامنز کو ایک غذائی سیفٹی نیٹ یا حفاظتی سہارا سمجھا جا سکتا ہے، جو ممکنہ کمی کو پورا کرےلیکن یہ صحت مند اور متوازن غذا کا متبادل نہیں۔

تاہم ماہرہ نے اس کے ساتھ یہ بھی خبردار کیا کہ طبی مشورے کے بغیر سپلیمنٹس کا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ بعض وٹامنز اور معدنیات کچھ ادویات کے ساتھ باہمی تعامل (Interaction) کر سکتے ہیں یا جسم میں ان کے جذب ہونے کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں، جو بعض صورتوں میں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرِ غذائیت کا مشورہ ہے کہ ایسا سپلیمنٹ منتخب کیا جائے جس میں وٹامنز اور معدنیات دونوں شامل ہوں اور ان کی مقدار روزانہ تجویز کردہ مقدار کے قریب یعنی تقریباً 100 فیصد ہو۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض وٹامنز کو جسم میں مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے مخصوص معدنیات کی ضرورت ہوتی ہے اور ان عناصر کی عدم موجودگی ان کے فوائد کو کم کر سکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر تجویز کردہ مقدار سے کہیں زیادہ خوراک لی جائے تو غذائی توازن بگڑ سکتا ہے، بعض وٹامنز یا معدنیات کی زہریلی مقدار (ٹاکسِسٹی) پیدا ہو سکتی ہے یا دیگر ضروری اجزا کے جذب میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

این وان پیپر نے یہ بھی بتایا کہ مائع شکل کے سپلیمنٹس گولیوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے جذب ہوتے ہیں، جو بعض افراد کے لیے مفید ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ لوگوں کے لیے یہ مناسب نہیں ہوتایہ سب فرد کی صحت اور ضرورت پر منحصر ہے۔

کیا سپلیمنٹس ہمیشہ مؤثر ہوتے ہیں؟

ماہرہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ بعض غذائی سپلیمنٹس کے غیر مؤثر ہونے کا امکان واقعی موجود ہے، کیونکہ امریکا میں غذائی سپلیمنٹس ایسی سخت نگرانی کے دائرے میں نہیں آتے جو ان کی افادیت کو لازمی طور پر ثابت کرے۔ اسی لیے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ ایسے سپلیمنٹس کا انتخاب کیا جائے جو مستند اور آزاد اداروں کی جانب سے جانچے گئے ہوں، جیسے امریکن فارماکوپیا (United States Pharmacopeia)، تاکہ پیکنگ پر درج اجزا کی درستگی کی تصدیق ہو سکے۔

این وان پیپر آخر میں اس نتیجے پر پہنچتی ہیں کہ وٹامنز اور معدنیات اس وقت زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتے ہیں جب انہیں قدرتی غذا کے ذریعے حاصل کیا جائے، کیونکہ غذا میں یہ اجزا ایسے معاون عناصر کے ساتھ پیک ہو کر آتے ہیں، جو ان کے جذب کو بہتر بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر دودھ میں موجود کیلشیم کا وٹامن ڈی کے ساتھ ہونا، جو اس بات کی واضح مثال ہے کہ قدرتی غذا سپلیمنٹس کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں